حیدرآباد ۔ کورونا علاج کے سلسلہ میں حکومت نے جن خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کو اجازت دی ان میں علاج کی صورتحال و مریضوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن دوسری طرف مزید 40 خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس نے کورونا علاج کی اجازت کیلئے حکومت کو درخواست دی ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں علاج کی سہولتوں میں کمی کے پیش نظر عوام خانگی ہاسپٹلس کا رُخ کررہے ہیں ایسے میں دیگر خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس نے حکومت سے علاج کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ فی الوقت حکومت کی جانب سے تقریباً 50 ہاسپٹلس کو علاج کی اجازت دی گئی۔ بتایا جاتا ہیکہ مزید 40 درخواستیں حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق درخواستوں کی جانچ ہو ہی ہے۔ حکومت صرف ایسے دواخانوں کو اجازت دے رہی ہے جو نیشنل اکریڈیشن بورڈ میں مسلمہ ہیں۔ ہر ہاسپٹل میں 100 بستروں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں گائیڈ لائنس جاری کی گئیں۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل کے حدود میں واقع دواخانوں کو پہلے مرحلہ میں اجازت دی گئی۔ انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کی شرائط کے مطابق دواخانوں میں کورونا کیلئے دیگر امراض کے برابر وینٹلیٹرس و آئی سی یو بستروں کی سہولت ہونی چاہیئے۔حکومت کی اجازت حاصل کرنے والے کئی ہاسپٹلس شرائط کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں جس پر حکومت نے آئی اے ایس عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسی دوران حکومت نے 100 بستروں کے ساتھ ہاسپٹلس کو کورونا کے علاج کی اجازت کا فیصلہ کیا ہے۔ شرائط کے مطابق ہاسپٹل میں کورونا کے مریضوں کیلئے علحدہ باب الداخلہ اور باہر جانے کا راستہ ہونا چاہیئے۔ کورونا کیلئے مخصوص وارڈ اور آئسولیشن رومس رکھے جائیں۔