سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس کا معائنہ، ٹسٹ میں بے قاعدگیوں کا جائزہ لیا جائے گا
حیدرآباد۔ حکومت نے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے اور سرکاری اور خانگی شعبہ میں ٹسٹ اور علاج کی سہولتوں کا جائزہ لینے کے لیے آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم کورونا کیسس میں اضافے کے پس منظر میں دواخانوں میں بستروں کی دستیابی، علاج کی سہولتوں کے علاوہ کورونا پر قابو پانے کے لیے حکومت کو تجاویز پیش کرے گی۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے آئی اے ایس عہدیداروں راہول بوجا، رجت کمار شائنی، سندیپ کمار سلطانیہ اور دیگر عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے انہیں مختلف ہاسپٹلس اور لیباریٹریز کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وہ کورونا کے مشتبہ اور متاثرہ مریضوں کے علاج کے بارے میں بھی تفصیلات حاصل کریں گے۔ حالیہ عرصہ میں خانگی شعبہ میں کورونا ٹسٹنگ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی اطلاعات کے بعد حکومت نے خانگی لیباریٹریز میں کورونا ٹسٹنگ پر روک لگادی ہے۔ آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم کی تشکیل کا مقصد ریاست میں کورونا کے علاج اور ٹسٹنگ کو مزید موثر بنانا ہے۔ یہ عہدیدار سرکاری اور خانگی سطح پر خامیوں کی نشاندہی کریں گے۔ چیف سکریٹری نے بتایا کہ اگر کسی ہاسپٹل میں بستر دستیاب نہیں ہے، تو مریضوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے ہاسپٹل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دوسرے ہاسپٹل سے تال میل کرتے ہوئے مریض کو وہاں روانہ کرے۔ حکومت نے چسٹ ہاسپٹل میں دو مریضوں کی موت میں مبینہ تساہل کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار کو گاندھی، عثمانیہ، چسٹ اور فیور ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے موجودہ سہولتوں کی جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ خانگی ہاسپٹلس میں بھاری رقومات کی وصولی پر بھی آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ خانگی شعبہ کی لوٹ اور سرکاری ہاسپٹلس میں سہولتوں کی کمی جیسے امور پر عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن اور میڈیا کے حملوں سے بچنے کے لیے حکومت نے آئی اے ایس عہدیداروں کے ذریعہ خامیوں کی اصلاح کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔