وزیر صحت سے نمائندگی کا فیصلہ، حکومت کی شرحیں ناقابل عمل
حیدرآباد۔/16 جون، ( سیاست نیوز) خانگی ہاسپٹلس اور لیباریٹریز میں کورونا ٹسٹ اور علاج کیلئے حکومت کی مقررہ شرحوں کی خانگی ہاسپٹلس سے مخالفت کی جارہی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ حکومت نے جن شرحوں کا تعین کیا ہے وہ ناقابل عمل ہے۔ حکومت کو فیصلہ سے قبل خانگی ہاسپٹلس سے مشاورت کرنی چاہیئے تھی۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر صحت ای راجندر سے ملاقات کرکے شرحوں پر نظرثانی کی درخواست کی جائے۔ ہاسپٹلس کا ماننا ہے کہ کورونا مریض کا بہتر علاج حکومت کی طئے شدہ شرحوں میں ممکن نہیں ہے۔ اسوسی ایشن آف سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس نے کہا کہ شرحوں کے بارے میں ہاسپٹلس کو احکامات وصول نہیں ہوئے۔ تاہم میڈیا میں جو شرحیں آئی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شرحوں میں یا تو حکومت سے نمائندگی کرنا پڑے گا یا پھر ہاسپٹلس کو آئسولیشن فیسلٹی ختم کرنی ہوگی۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس، نرسیس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے خرچ میں 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ وہ 5 دن کام کرتے ہیں اور 4 دن آرام دیا جارہا ہے تاکہ وائرس سے متاثر نہ ہوں۔ ایسے ڈاکٹرس اور طبی عملہ جو پی پی ای کٹس کا استعمال کرتے ہیں وہ صرف 4 گھنٹے کام کرسکتے ہیں۔ خانگی ہاسپٹلس میں7 دن کے علاج کیلئے 1.5 لاکھ کی شرح مقرر کی گئی جبکہ گاندھی ہاسپٹل میں وینٹلیٹر کے مریض پر 3 لاکھ خرچ کئے جارہے ہیں۔ خانگی ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ حکومت کو علاج کے دوران اچانک پیچیدگیوں اور اخراجات میں اضافہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے شرحوں پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔