کورونا لاک ڈاؤن ، ہوٹل صنعت تباہی کے دہانے پر

   

Ferty9 Clinic

35000 رومس مخلوعہ، 3 تا4 لاکھ افراد کا روزگار داؤ پر
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) کورونا وائرس کے سبب شہر حیدرآباد کی ہوٹل صنعت بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے اور 24مارچ کو لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے زائد از 35ہزار کمرے ہوٹلوں میں مخلوعہ ہیں اور صنعت کی تباہی کا مشاہدہ کیا جا رہاہے۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موجود ہوٹل انڈسٹری کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی تعداد3تا4 لاکھ ہے اور اب ان کے ملازمتوں کے مسائل پیدا ہونے شروع ہوچکے ہیں کیونکہ ہوٹل میں رہائش اختیار کرنے والی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوٹل انڈسٹری کو ان حالات کا سامنا ہے کیونکہ ایسے حالات کبھی نہیں رہے جب کہ ہوٹلوں میں 10 فیصد سے بھی کم مسافر رہے ہوں۔24 مارچ کو لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے شہر میں کوئی نیا مسافر یاہوٹل میں کمرے کا خواہشمند نہیں پہنچا ہے جو کہ س صنعت کی تباہی کا ثبوت ہے۔ہوٹل اسوسیشن کا کہنا ہے کہ شہر حیدرآباد کی ہوٹلو ںمیں موجود کمروں میں 80 فیصد کمروں میں ہمیشہ ہی مسافرین اور مہمان رہا کرتے تھے لیکن لاک ڈاؤن کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں جاب 10 فیصد لوگ بھی ہوٹلوں میں نہیں ہیں۔ہوٹلوں میں کام نہ ہونے کے باوجو دبھی بیشتر تمام ہوٹلوں کے مالکین کی جانب سے ملازمین کو رکھا جانا لازمی ہے کیونکہ ہوٹل میں کوئی قیام کرے یا نہ کرے ہوٹلوں کی صفائی اور اس کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے عملہ ہمیشہ درکار ہوتا ہے اسی لئے ہوٹل مالکین کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملازمین کو ہوٹلوں میں رکھا جائے لیکن ملازمین کو رکھنے اور ان کو تنخواہوں کی اجرائی کے سبب مالکین کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان حالات کا سامنا نہ صرف شہر حیدرآباد کی ہوٹل صنعت کو ہے بلکہ ملک کے بیشترشہروں میں صنعت کی یہی حالت ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر حیدرآباد کی بجٹ ہوٹلوں میں 30ہزار کمرے موجود ہیں جبکہ بہتر سہولتوں والی اسٹار اور سرکردہ ہوٹلوں میں 3000 سے زائد کمرے موجود ہیں۔