اوزون کی سطح 115فیصد ہوچکی تھی، عثمانیہ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق
حیدرآباد۔ کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں اگرچہ تجارتی سرگرمیوں کو بھاری نقصان ہوا اور عوام معاشی مسائل کا شکار ہوئے لیکن لاک ڈاؤن سے حیدرآباد کی فضاء آلودگی سے بڑی حد تک پاک رہی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹکنالوجی کے ماہرین کے ریسرچ کے مطابق لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران اوزون کی سطح میں 115 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو آلودگی سے پاک اور صحت مند ماحول کی علامت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے آغاز پر اوزون کی سطح 26 پی پی بی رہی جو لاک ڈاؤن کے دوران بڑھ کر 56.4 پی پی بی تک پہنچ گئی جس کے نتیجہ میں حیدرآباد پر اوزون گیاس میں 115 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسٹڈی میں پتہ چلا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران نائیٹروجن بائی آکسائیڈ، نائیٹروجن آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح کافی حد تک گھٹ گئی جو علی الترتیب 33.7 ، 53.8 اور 27.25 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حیدرآباد میں لاک ڈاؤن پابندیوں کے نتیجہ میں ماحولیات کو آلودگی سے پاک کرنے میں مدد ملی ہے۔ محققین نے ماقبل لاک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کے دوران کی ماحولیاتی آلودگی کا جائزہ لیا ہے۔ یکم فروری تا 23مارچ کے علاوہ لاک ڈاؤن کی مدت میں 24 مارچ تا 30 اپریل ریسرچ کیا گیا۔2018 اور 2019 میں حیدرآباد کی فضاء میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائیٹروجن آکسائیڈ اور اوزون کی موجودگی سے تقابل کیا گیا۔ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ کوویڈ 19 لاک ڈاؤن نے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے اور اوزون کی سطح میں حوصلہ افزاء اضافہ ہوا۔ غازی آباد کی اکیڈیمی آف سائینٹفک ریسرچ اور بعض دیگر ریسرچرس نے اپنی رپورٹس جاری کی ہیں۔