کورونا لاک ڈاؤن کا اثر، تعمیری شعبہ شدید متاثر ، قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

   


طلب میں کمی کے باوجود 10 ماہ میں سمنٹ کی قیمت میں 25 فیصد ، لوہے کی قیمت میں 55 فیصد کا اضافہ
حیدرآباد۔ ایک طرف کورونا لاک ڈاؤن دوسری طرف دھرانی رجسٹریشن، لے آؤٹ مسائل سے تقریباً 10 ماہ سے تعمیری شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بڑے بڑے پراجکٹس ملتوی ہوگئے۔ انفرادی مکانات کی تعمیرات کو کم کردیا گیا ہے۔ لوہا، سمنٹ و دیگر اشیاء کا ڈیمانڈ گھٹ گیا ہے۔ مارکٹ ٹرینڈ کے مطابق طلب میں کمی پر قیمتوں میں بھی کمی ہونی چاہیئے لیکن ریاست میں اس کے برعکس صورتحال ہے۔ سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل کا جائزہ لیں تو فی الوقت قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ ایک تھیلہ سمنٹ پر 50 روپئے کا اضافہ ہوا وہیں فی ٹن لوہے پر 20 ہزار روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال جنوری سے ڈسمبر تک سمنٹ کی قیمتوں میں 23 فیصد اور لوہے کی قیمتوں میں 55 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل فی تھیلہ سمنٹ کی قیمت 270 روپئے تھی اب 335 ہوگئی ۔ اس طرح فی ٹن لوہے کی قیمت 37 ہزار روپئے تھی جو اب بڑھ کر 58تا 68 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر ایک ماہ قبل ہی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سمنٹ اور لوہے کی کمپنیوں کی سازش و ملی بھگت قرار دیا تھا۔ لوہا اور سمنٹ کے ساتھ ایندھن (پٹرول و ڈیزل) کی قیمتوں پر حکومت پرائس ایکلیشن قواعد پر عمل ہوتا ہے۔ یعنی قیمت میں کمی پر حکومت کنٹراکٹرس کو کم قیمت ادا کرتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہونے پر اضافی قیمت ادا کرتی ہے۔ جہاں تک ڈبل بیڈروم مکانات کا معاملہ ہے اس میں قیمتوں میں اضافہ یا کمی کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پہلے سے طئے شدہ معاہدہ کے تحت بلز ادا کئے جاتے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے قبل اور اس کے بعد کا جائزہ لیں تو کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص تعمیری شعبہ پر اس کا زیادہ اثر دکھائی دے رہا ہے۔ سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ایس ایف ٹی کی قیمتوں پر 200 تا400 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ٹائیلس اور لیبر کی مزدوری میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک ایس ایف ٹی ٹائیلس کی قیمت میں 10 روپئے کا اضافہ ہوگیا۔ قبل از ان اسکیلڈ لیبر کی یومیہ مزدوری 400 تا 500 ہوا کرتی تھی اب 900 روپئے تک اس میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اسکیلڈ مزدور کی یومیہ مزدوری 1300 تک پہنچ گئی ہے جس کے نتیجہ میں ماضی میں فی ایس ایف ٹی 800 تا1000 روپئے تعمیراتی اخراجات تھے جو اب بڑھ کر 1200 تا1400 روپئے تک پہنچ گئی ہے یعنی ایک ایس ایف ٹی پر 400 روپئے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک ملازم یا متوسط طبقہ کے افراد پر مکان تعمیر کرنے کیلئے 10 لاکھ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ 2 ہزار ایس ایف ٹی مکان کی تعمیر پر ماضی میں 20 تا25 لاکھ روپئے کے مصارف ہوا کرتے تھے جس میں اب اضافہ ہوکر 35 لاکھ روپئے کے مصارف ہورہے ہیں۔ اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ بالآخر اس کا سارا اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔