کورونا لاک ڈاون ‘ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

بعض تاجرین پر ذخیرہ اندوزی کا الزام ‘ مصنوعی قلت جیسی صورتحال ‘ ترکاری قیمتوں میں استحکام

حیدرآباد۔5اپریل(سیاست نیوز) شہر میں ضروری اشیاء بالخصوص چاول ‘ آٹا اور دالوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کی شکایات عام ہوگئی ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کے میکانزم میں ناکامی کے سبب شہریوں کو مجبوری کی حالت میں طلب کی جانے والی قیمتیں ادا کرنی پڑرہی ہیں۔ شہر حیدرآباد کے ٹھوک تاجرین کے بازاروں میں موجود دالیں شہر کی چلر فروشی کی دکانات تک پہنچنے میں جو قیمتیں ہورہی ہیں اس کے سبب چلر فروشی کی دکانات پر قیمتوں میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جب ٹھوک تاجرین کی جانب سے ہی اضافی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں تو چلر فروش معمول کے مطابق داموں میں اشیاء کس طرح فروخت کرسکتے ہیں۔ شہر کے ٹھوک تاجرین کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ انہیں اضافی قیمتوں میں ہی اجناس وصول ہورہے ہیں اسی لئے وہ ان اجناس کی فروخت ان قیمتو ںمیں ہی کریں گے جن قیمتوں میں انہیں موصول ہوئے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق ٹھوک تاجرین کی جانب سے اجناس بالخصوص دالیں اور چاول ذخیرہ کیا جا رہاہے اور مصنوعی قلت ظاہر کرتے ہوئے قیمتو ںمیں اضافہ کیا جا رہاہے اور روزانہ یہی طریقہ کار اختیار کیا جا رہاہے اسی لئے حکومت کی جانب سے اگر موبائیل رعیتو بازار کی طرح اجناس کی گاڑیوں کی بھی شروعات کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شہریوں کو بنیادی مسائل سے نجات حاصل ہوگی کیونکہ ترکاریوں کی قیمتوں میں موبائیل رعیتو بازار کے آغاز کے ساتھ ہی زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور ترکاری فروشوں کی جانب سے جو من مانی قیمتوں کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ بند ہوچکا ہے اگر اسی طرح ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ ز راعت کی جانب سے موبائیل اجناس کی فروخت کے انتظامات کئے جاتے ہیں تواس کے کافی مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔ پرانے شہر کے علاوہ شہر کے بیشتر تمام علاقوں میں اس طرح کے موبائیل اجناس کے مراکز کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ ٹھوک تاجرین کی جانب سے کی جانے والی فروخت ہی مہنگی ہے اسی لئے دونوں شہروں میں چلر فروشی کی دکانات پر قیمتو ںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اگر ریاستی حکومت کی جانب سے موبائیل اجناس‘ چاول اور دالوں کی فروخت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔