زیادہ معائنوں کی صورت میں مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا ۔ احتیاطی اقدامات ناگزیر
حیدرآباد۔28مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا مریضوں کی تعداد 2000سے تجاوز ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے معائنہ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں اموات کی بھی جمع اور ان کے کورونا معائنہ کے احکام کے بعد کہا جا رہاہے کہ ریاست میں کورونا کے مریضوں اور اموات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جائیگا۔ حکومت کی جانب سے کورونا معائنوں میں اگر اضافہ کیا جاتا ہے تو تلنگانہ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ شہر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کے بعد احتیاطی اقدامات کو سخت کرنے کی بجائے حکومت کی رعایتوں پر مختلف گوشوں سے اعتراض کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے اور جان بوجھ کر عوام کو پر ہجوم علاقوں میں جانے کی اجازت فراہم کر رہی ہے۔ تلنگانہ میں گذشتہ یوم جملہ 107 نئے کورونا مریض پائے جانے کے بعد ریاست میں متاثرین کی تعداد 2098ہوچکی ہے اور کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے ۔
حکومت کی جانب سے دعوی کیا جا رہاہے کہ وہ آئی سی ایم آر کی جاری کردہ رہنمایانہ خطوط اور احکامات کے مطابق معائنہ کر رہی ہے لیکن حکومت کے تحت کورونا وائرس کے خصوصی دواخانہ گاندھی اور کنگ کوٹھی دواخانہ کے علاوہ چیسٹ ہاسپٹل میں مریضوں کے معائنہ کے بجائے ان سے سفری تفصیلات دریافت کی جا رہی ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کا کوئی مصدقہ مریض سے رابطہ ہوا تھا یا نہیں جبکہ ہندستان میں کورونا س کے متاثرین کی 80 فیصد تعداد میں علامتیں بھی نہیں پائی جا رہی ہیں ایسے میں علامتوں کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونے والوں کو واپس ان کے گھر روانہ کرنا دوسروں کو خطرات میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب اس کے ساتھ زندگی گذارنے کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی لیکن حکومت کی جانب سے جابجا معائنہ کی صورت میں ہی اس وباء پر قابو پانے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ شہر میں ہفتہ میں 2مرتبہ جس طرح ٹریفک پولیس انتظامیہ کی جانب سے نشہ کی حالت میںگاڑی چلانے والوں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اسی طرح اگر محکمہ پولیس و صحت کی جانب سے سڑکوں پر راہگیروں کی جسمانی حرارت کی جانچ کی جانے لگے تو فضول سڑکوں پر گھومنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور جسمانی حرارت کے ذریعہ بنیادی جانچ بھی ممکن ہوجائے گی ۔اسی لئے حکومت کو منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کو کورونا سے پاک بنانے کی کوشش میں اپنا اہم کردار ادا کیا جاسکے۔