کورونا متاثرین کا گھروں پر کورنٹائن زیر غور

   

مرکز کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے لیے ریاستی حکومت سنجیدہ
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے محکمہ صحت نے مرکزی حکومت کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پر کورونا وائرس کے متاثرین کا گھروں میں علاج کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ مریضوں کو ٹیلی میڈیسن کے ذریعہ ماہرین سے رائے مشورے دئیے جائیں گے ۔ کورونا وائرس کے پازیٹیو کیسیس میں اضافہ ہونے پر سرکاری حلقوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے ۔ محکمہ صحت خصوصی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل ، چیسٹ ہاسپٹل ، فیور ہاسپٹل کے ساتھ نمس ہاسپٹل میں علاج کے لیے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ زیر علاج افراد میں علامتیں نظر نہ آنے پر فوری ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں دن بہ دن کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جس سے عوام میں بے چینی اور سرکاری حکام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بعد کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مستقبل کے چیلنجس سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت سرگرم ہوگیا ہے ۔ علاج اور احتیاطی اقدامات اور وباء کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ مزید پازیٹیو کیسیس میں اضافہ ہونے پر ہاسپٹلس میں رکھ کر علاج کرنے کی مکمل سہولتیں دستیاب نہیں ہے ۔ ساتھ ہی رواں ماہ میں موسمی امراض وائرل فیور ، ڈینگو اور بخار وغیرہ کے بھی خطرات کا سامنا ہے ۔ جس کے پیش نظر تمام سرکاری و خانگی ہاسپٹلس میں مریضوں کا ہجوم بڑھ سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے کورونا سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ فی الحال تلنگانہ میں شہر حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل میں زیادہ تر کورونا وائرس کے متاثرین کا علاج کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی دوسرے سرکاری ہاسپٹلس میں بھی علاج جاری ہے ۔ گچی باولی میں ٹیمس کو تیار رکھا گیا ہے جہاں ابھی علاج شروع نہیں ہوا ہے ۔ اگر کیسیس میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ ہاسپٹل بھی علاج کے لیے دستیاب ہوجائے گا ۔ ساتھ ہی حکومت تلنگانہ نے خانگی ہاسپٹلس کو بھی کورونا وائرس کے متاثرین کا علاج کرنے کی اجازت دی ہے ۔ زیر علاج کورونا کے متاثرین میں زیادہ افراد میں علامتیں نظر نہیں آرہی ہیں ۔ صرف چند افراد میں ہی زیادہ علامتیں نظر آرہی ہیں ۔ مزید چند افراد وینٹی لیٹر پر ہیں ۔ ایسی صورت میں گذشتہ تین دن سے اگر کسی کو بخار ، کھانسی کے علاوہ دوسری کوئی علامتیں نہیں ہیں تو انہیں بغیر کسی ٹسٹ کے ڈسچارج کرنے کی فہرست تیار کی ہے ۔ مرکزی حکومت کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں ایسے افراد کو ڈسچارج کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ تاہم انہیں مقررہ وقت کے تحت ہوم کورنٹائن میں رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے ڈسچارج کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر تلنگانہ میں عمل آوری کی جارہی ہے ۔ کورونا وائرس پازیٹیو کا شکار ہونے والے ایسے افراد جس میں مرض کے اثرات کم ہے انہیں گھروں میں رکھ کر علاج کرنے کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ جس پر عمل کرنے کا تلنگانہ کے محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے ۔ ایسے افراد گھروں میں ہی ائسولیشن رہتے ہوئے ڈاکٹروں کے مشورے پر ادویات کا استعمال کریں تو کافی ہے ۔ مگر ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ ایک روم میں تنہا رہے ۔ گھر کے دوسرے افراد خاندان سے رابطے میں نا رہے ۔ ایسے لوگوں کو ہی اس کی اجازت دی جائے گی ۔ اگر وہ ہاسپٹل میں ہی علاج کرانا چاہتے ہیں تو اس کی بھی انہیں گنجائش فراہم کی جائے گی ۔ گھروں میں مریض کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پروٹوکول کے تحت ہائیڈراکسی کلورکین ادویات جسم کو طاقت فراہم کرنے والی غذا استعمال کریں مریض کے موبائل میں لازمی طور پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن کریں ۔ اور وہ ہمیشہ ایکٹیو ہونا چاہئے ۔ میڈیکل ٹیم اس شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی ۔ ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر متاثر کو فوری ہاسپٹل منتقل کردیا جائے گا ۔ مریض گھر میں رہے تو ٹریپل لیر میڈیکل ماسک کا استعمال کریں ۔ مریض کو کوئی بھی طبی مسائل پیش آئے تو اس کو ڈاکٹرس سے ٹیلی یا ویڈیو کال کے ذریعہ مشورے دئیے جائیں گے اور ساتھ ہی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے غذا استعمال کرنے کی ہدایت دی جائے گی ۔۔