کورونا متاثر کی نعش کو ڈاکٹر نے خود ٹریکٹر میں شمشان گھاٹ منتقل کیا

,

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ کورونا بحران کے دوران ہم نے انسانیت کو شرمسار کرنے والے کئی واقعات کو دیکھا اور سنا ہے لیکن پداپلی کے ایک واقعہ نے یہ ثابت کردیا کہ انسانیت نے ابھی دم نہیں توڑا ہے ۔ حالیہ دنوں میں کورونا سے مرنے والوں کو ان کے رشتہ داروں نے قبول نہ کرنے کے کئی واقعات اخبارات ، ٹیلی ویژن اور سوشیل میڈیا کی سرخیاں بنی ہیں اورکافی تیزی سے وائرل بھی ہوئی ہیں ۔ کاماریڈی میں کورونا کے ایک مریض کی نعش کو بلدیہ کے عملہ نے جہاں سیکل پر منتقل کیا تو نظام آباد میں نعش کو آٹو میں منتقل کیا گیا ۔ کسی ایک مقام پر کچرے کے رکشے میں بھی شمشان گھاٹ منتقل کرنے کے واقعات ریاست بھر میں ہاٹ ٹاپک بنے ہیں ۔ حیدرآباد کے ایک شمشان گھاٹ میں ادھ جلی نعش کو کتے بھی کھائیں ہیں ایسا ہی ایک واقعہ ضلع پداپلی میں پیش آیا ہے ۔ کورونا سے دم توڑنے والے شخص کی نعش منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس دستیاب نہ ہونے پر ٹریکٹر میں منتقل کیا گیا ۔ تاہم کورونا کے خوف سے میونسپل ڈرائیور نے ٹریکٹر چلانے سے انکار کرنے پر سلطان آباد کے ڈاکٹر سری رام نے پی پی ای کٹس پہنتے ہوئے خود ٹریکٹر چلاتے ہوئے نعش کو شمشان گھاٹ پہونچایا اور آخری رسومات انجام دی ہے ۔تفصیلات کے بموجب کورونا سے ایک شخص کی موت پر ہاسپٹل کی جانب سے مقامی بلدیہ کو اس کی اطلاع دی گئی جس پر بلدیہ کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ۔ کچرے کی ٹریکٹر چلانے والے ڈرائیور نے ٹریکٹر ہاسپٹل کے احاطے میں چھوڑکر چلاگیا ۔ نعش کو منتقل کرنے کیلئے گاؤں میں کوئی آگے نہیں آنے پر ڈاکٹر سری رام نے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کورونا متاثر کی نعش کو خود ٹریکٹر چلاتے ہوئے شمشان گھاٹ منتقل کیا اور آخری رسومات بھی انجام دی ۔ ڈاکٹر کی جانب سے کئے گئے اس اقدام کی مقامی افراد زبردست ستائش کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا میں بھی ڈاکٹر سری رام کے انسانیت جذبہ کو سراہا جارہا ہے ۔ ریاستی وززیر فینانس ہریش راؤ نے بھی ڈاکٹر سری رام کو سلام کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا اور کہاکہ ڈاکٹر نے عوام کو ایک نئی تحریک دی ہے ۔