کورونا مریضوں سے خانگی دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ روکنے کیا اقدامات کئے گئے؟

,

   

٭ تیسری لہر کی کیا تیاری کی گئی ، حکومت سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا سوال
٭ کورونا صورتحال پر رپورٹ سے عدم اطمینان ، مختلف محکمہ جات سے رپورٹ طلب
آج دوبارہ سماعت ہوگی

حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا کی صورتحال پر حکومت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے بعض احکامات کو نظرانداز کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ پر آج کورونا کی صورتحال پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوویڈ کے مسئلہ پر ہائی کورٹ کے بعض احکامات پر تلنگانہ حکومت نے عمل آوری کیوں نہیں کی۔ عدالت نے خانگی دواخانوں میں کورونا کے مریضوں سے علاج کیلئے بھاری رقومات کے حصول کو روکنے میں حکومت کی ناکامی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ خانگی دواخانوں میں علاج کے چارجس یکساں ہونے چاہیئے۔ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ نے جو ہدایت دی تھی اس پر عمل آوری کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے خانگی دواخانوں میں علاج کیلئے چارجس کا تعین کرتے ہوئے جی او کی عدم اجرائی اور 14 مزید آر ٹی پی سی آر ٹسٹ لیباریٹریز کے عدم قیام پر حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے بارے میں پیش کردہ حکومت کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں ہے۔ عدالت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے ماہرین کی کمیٹی کی عدم تشکیل کے بارے میں حکومت سے سوال کیا۔ عدالت نے کہا کہ مہاراشٹرا میں ایک ضلع میں 8000 سے زائد بچے کورونا سے متاثر ہوئے ہیں لہذا تلنگانہ حکومت تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے کیا تیاری کررہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا تیسری لہر آنے کے بعد قدم اٹھائے جائیں گے؟ ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی سے احتیاطی تدابیر کیوں اختیار نہیں کی گئیں۔ عدالت نے پوچھا کہ حیدرآباد میں کیا صرف ایک نیلوفر ہاسپٹل کافی رہیگا ؟۔ دواخانوں میں بنیادی طبی سہولتوں میں اضافہ کیلئے حکومت کیا قدم اٹھا رہی ہے۔ عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ زائد چارجس کی وصولی کیلئے جن دواخانوں کا لائسنس منسوخ کیا گیا کیا متاثرین کو علاج کی رقم واپس کرائی گئی۔ چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ علاج کیلئے سونا رہن رکھنے کیلئے مجبور خاندانوں سے خانگی دواخانوں نے بھاری رقومات وصول کی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے ایک بھی سوال کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ ڈائرکٹر پبلک ہیلت کھمم کے دورہ پر ہیں لہذا وہ سماعت کے موقع پر حاضر نہیں ہوسکے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کے سوالات کی وضاحت اور تفصیلات داخل کرنے کیلئے وقت طلب کیا۔ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ کل چہارشنبہ کو ہیلت سکریٹری، ڈائرکٹر ہیلت اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔ آئندہ سماعت کل تک کیلئے ملتوی کی گئی۔ اسی دوران ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ کی جانب سے ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کورونا ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ 29 لاکھ کورونا ٹسٹ کئے گئے۔ فیور سروے کے دوسرے مرحلہ میں 68.56 فیصد افراد کے معائنے کئے گئے ۔وزارت لیبر ، جیل اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے علحدہ رپورٹس پیش کی گئیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خانگی دواخانوں کے خلاف شکایتوں کی سماعت کیلئے 3 آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ ریاست میں 79 دواخانوں کو 115 وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئیں۔ ابھی تک 10 دواخانوں میں کورونا کے علاج کے لائسنس کو منسوخ کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بلیک فنگس کی ادویات کی ملک بھر میں قلت ہے۔ حکومت کی جانب سے بلیک فنگس کی ادویات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ میں ابھی تک 744 بلیک فنگس کے معاملے درج کئے گئے۔ اس مرض کے علاج کیلئے 1500 بستروں کا انتظام کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف 150 مقدمات درج کئے گئے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اپریل تا 30 مئی 7.49 لاکھ مقدمات کورونا قواعد کی خلاف ورزی پر درج کئے گئے ہیں۔ ماسک کا استعمال نہ کرنے والوں پر 4.188 لاکھ کیسس درج کرتے ہوئے 35.81 کروڑ روپئے بطور جرمانہ وصول کیا گیا۔ سماجی دوری کی عدم برقراری پر 41872 کیسس درج کئے گئے۔ مقررہ تعداد سے زائد ہجوم جمع ہونے پر 13867 مقدمات درج کئے گئے۔ لاک ڈاؤن اور کرفیو قواعد کی خلاف ورزی پر 2.61 لاکھ مقدمات درج کئے گئے اور پولیس سختی سے لاک ڈاؤن پر عمل کررہی ہے۔