کورونا معائنہ کے مراکز 12 بجے دن کے بعد عملاً بند

   

شہریوں کو مشکلات ، خانگی لیابس میں معائنہ کروانے پر مجبور
حیدرآباد۔4جنوری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآبا دمیں کورونا وائرس کے معائنہ کے مراکز پر 12بجے دن کے بعد معائنہ نہ کئے جانے کے سبب شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور انہیں خانگی لیابس کا رخ اختیار کرنا پڑرہا ہے۔ شہر حیدرآباد میں گلے کی خراش‘ گلے میں درد‘ شدید بخار‘ اعضاء شکنی کے علاوہ متلی کی شکایات کے ساتھ مریضوں کی بڑی تعداد دواخانوں سے رجوع ہونے لگی ہے اور ڈاکٹرس کے مشورہ پر جب وہ سرکاری معائنہ کے مراکز بالخصوص بستی دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں تو انہیں کہا جا رہاہے کہ صبح 9 تا12:00 بجے کے درمیان ہی کورونا وائرس کا معائنہ کرنے کی سہولت حاصل ہے اور معائنہ کے بعد رپورٹ کے لئے 48تا72 گھنٹے لگنے لگے ہیں۔ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے فوری طور پر شہر کے مختلف مقامات پر اگر موبائیل معائنوں کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں کورونا وائر س کے مریضوں کی نشاندہی جلد از جلد نشاندہی کے لئے دوبارہ ریاپڈ اینٹی جین معائنوں کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں ایسے افراد جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ان کو قرنطینہ کیا جاسکے اور دوسرے شہریوں کو وائرس کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے معائنوں میں تیزی لانے اور اس میں اضافہ کے اقدامات کے بجائے انہیں محدود کرنے کے سبب وائرس کا شکار ہونے والے آزادانہ طو رپر گھومتے ہوئے دوسروں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی ناقابل فہم ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی ہدایت کے مطابق محکمہ صحت کو دی گئی ہدایات کے مطابق معائنے کئے جا رہے ہیں لیکن اگر معائنوں کی تعداد کم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں متاثرین کی تعداد میں بھی کم ریکارڈ ہوگی جبکہ دونوں شہروں میں موجود خانگی دواخانوں سے بخار‘ گلے میں خراش‘ گلے میں درد کے علاوہ متلی اور اعضاء شکنی کی شکایات کے ساتھ رجوع ہونے والوں کی تعداد میں 4گنا اضافہ ریکارڈکیا جا رہاہے اور ڈاکٹرس کی جانب سے بیشتر مریضوں کو کورونا وائرس کا ہی علاج کیا جا رہاہے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ ابتدائی دو لہروں کے دوران ایچ آر سی ٹی کے ذریعہ ڈاکٹرس کورونا وائرس کے منفی اثرات کا پتہ لگانے میں کامیاب ہورہے تھے لیکن اومی کرون کے معاملہ میں ایچ آر سی ٹی کی رپورٹ کافی نہیں ہورہی ہے اسی لئے آر ٹی پی سی آر اور ریاپڈ اینٹی جین معائنہ کے ذریعہ ہی وائرس کی توثیق ہوسکتی ہے۔م