نئی دہلی: بہار اسمبلی کے انتخابی نتیجوں کے بعد اندرونی تنازع سے جوجھ رہی کانگریس کو پچھلے 48 گھنٹے میں دو بڑے صدمے لگے جب کورونا وائرس نے دو قدآور قائدین آسام کے سابق وزیراعلی ترون گوگوئی اور پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کو چھین لیا۔’’آسام کے تین بار وزیراعلیٰ رہے گوگوئی کا 85 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا جبکہ 71 سالہ پٹیل چہارشنبہ کی صبح کورونا سے جنگ ہارگئے ۔ گوگوئی شمال مشرق میں کانگریس کے سربراہ رہنما تھے تو وزیر اعظم نریندرمودی کی آبائی ریاست گجرات میں پٹیل پارٹی پہچان تھے ۔دونوں رہنماؤں کا شمار کانگریس کے سب سے بھروسے مند ساتھ کے طورپر ہوتا تھا اور دونوں ہی گاندھی خاندان کے قریبی اور بھروسے مند رہنما تھے ۔آسام میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ایسے میں گوگوئی کا جانا پارٹی کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے ۔سیاست میں قریب پانچ دہائی تک سرگرم رہے گوگوئی سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی حکومت میں 1971میں پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے اور پھر سیاستی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے ۔انہوں نے اندرا گاندھی،راجیو گاندھی ،سونیا گاندھی اور اب راہل گاندھی کے ساتھ کام کیا۔تین بار لوک سبھا اور چار مرتبہ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رہے پٹیل لمبے وقت سے حالیہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر تھے اور فی الھال کانگریس کے خزانچی تھے ۔ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد جب سونیا گاندھی نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اس کے بعد آخری وقت تک پٹیل ان کے (سونیا گاندھی) کے سب سے بھروسے مند رہے اور پارٹی کو کسی بھی پریشانی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔