ٹوکیو ۔27 فروری (سیاست ڈاٹ کام) چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کے سبب رواں سال جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں مجوزہ اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے اور عالمی اولمپکس اسوسی ایشن اس معاملے پر آئندہ 2 ماہ میں حتمی فیصلہ کرے گی۔چین کے صوبے ہوبے کے دارالحکومت ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک وائرس سے دنیا کے سب سے بڑے آبادی کے حامل ملک میں مزید71ہلاکتیں ہو گئی ہیں جس سے صرف چین میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افرادکی تعداد 2633 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 77 ہزار سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔چین کے بعد سب سے زیادہ 977 معاملات جنوبی کوریا سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 10افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ اب مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی اس وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد رواں سال منعقد شدنی ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپکس اسوسی ایشن میں سب سے طویل مدت تک رکن رہنے کا اعزاز رکھنے والے ڈک پاؤنڈ نے کہا کہ ہمارے پاس 24 جولائی سے شروع ہونے والے اولمپکس کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے مزید 2 ماہ کا وقت ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس وقت تک وائرس پر قابو پا لیا جائے گا۔ڈک پاؤنڈ آئی او سی کے موجودہ صدرباک سے بھی طویل عرصے سے اولمپکس اسوسی ایشن کے رکن ہیں جہاں وہ 1978 میں انٹرنیشنل اولمپکس اسوسی ایشن کے رکن بنے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مئی تک فیصلہ کرنا ہوگا کہ اولمپکس کا انعقاد کروانا ہے یا نہیں کیونکہ ہمیں کھانے، سیکیورٹی، کھلاڑیوں کی رہائش، اولمپک ولیج، ہوٹلزاورمیڈیا کے لیے انتظامات سمیت متعدد معاملات دیکھنے ہوں گے۔اولمپکس میں تقریباً 11ہزار ایتھلیٹس کی شرکت متوقع ہے اور25 اگست سے شروع ہونے والے پیرالمپکس میں 4400 ایتھلیٹس کی شرکت کا امکان ہے۔ اس سے قبل کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے چین کی جمناسٹکس ٹیم میلبورن میں ہونے والے ورلڈ کپ جمنااسٹکس 2020 سے باہر ہوگئی تھی۔ چین کی ٹیم 20 سے 23 فروری تک جاری رہنے والے ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی تھی جس میں رواں برس کے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ پوائنٹس بھی شامل ہیں۔
