تاریخی چارمینار اور قلعہ گولکنڈہ آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی
حیدرآباد۔ تاریخی چارمینار اور قلعہ گولکنڈہ کی سیاحت کیلئے پہنچنے والوں کی تعداد میں 2020 کے دوران کافی گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ سال کے آغاز کے اندرون3ماہ کورونا لاک ڈاؤن کا لگایا جانا ہے۔ تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں مختلف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ آئی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ سال 2021 کے دوران حالات معمول پر رہنے پر تاریخی مقامات پر سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا۔ شہر میں تاریخی چارمینار کی سیاحت کرنے والوں کی تعداد میں گراوٹ سے متعلق کہا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 50فیصد سے زیادہ گراوٹ آئی ہے ۔سال 2019 میں 12لاکھ 24 ہزار 515 ریکارڈکی گئی تھی لیکن سال 2020کے دوران 6ماہ سے زائد چارمینار کو عوام کیلئے بند رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ اسی طرح قلعہ گولکنڈہ پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں گراوٹ ریکارڈکی گئی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ عہدیدارو ںکا کہناہے کہ تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بیرونی سیاحوں کی آمد و رفت بند ہونے سے بیرونی سیاحوں کی آمد نہیں رہی اور نہ ہی تلنگانہ میں بیرون ریاست سے سیاح آ پائے ۔ اسی لئے محکمہ سیاحت کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔ تاریخی چارمینار اور قلعہ گولکنڈہ جوکہ آثار قدیمہ کے تحت ہیں ان کی آمدنی پر بھی اثر ہوا ۔ بتایاجاتا ہے کہ آثار قدیمہ کی جانب سے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں میں سیاحوں کی آمد کے رجحان میں اضافہ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ 2021 کے دوران حالات معمول پر آتے ہیں تو تلنگانہ کے سیاحتی مراکز کی جانب سے سیاحوں کو راغب کروانے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ چارمینار کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کے سلسلہ میں نگران چارمینار نے بتایا کہ محکمہ کو سفارشات روانہ کی جاچکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔