14 دن قرنطینہ کا لزوم ، کورونا علامتوں پر دواخانہ میں شریک کیا جائے گا
تلنگانہ سے فلائٹس کا شیڈول
حکومت کی جانب سے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے شہریوں کی 7مئی سے واپسی کے انتظامات کیے جارہے ہیں ۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے ایک ہفتہ کے لیے فلائٹس کا شیڈول تیار کیا گیا ہے ۔ پہلے دن 7 مئی کو تلنگانہ سے ایک فلائٹ امریکہ کے لیے روانہ ہوگی جب کہ دوسرے دن کویت ، تیسرے دن برطانیہ ، چوتھے دن متحدہ عرب امارات کے لیے فلائٹس روانہ ہوں گی جب کہ چھٹے دن دو فلائٹس امریکہ اور فلپائن اور ساتویں دن ایک فلائٹ ملیشیا کے لیے روانہ ہوگی اور ریاست کے شہریوں کو واپس لایا جائے گا ۔۔
حیدرآباد۔5مئی(سیاست نیوز) دنیا کی سب سے وطن واپسی مہم کا 7مئی سے آغاز ہونے جا رہاہے اور خلیجی ممالک میں موجود ہندوستانی شہریوں کی واپسی کا عمل شروع ہونے کے ساتھ کہا جا رہاہے کہ ملک واپس ہونے والے ہندوستانیوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ ملک واپسی کے بعد 14دن کیلئے قرنطینہ میں رہیں اور اس قرنطینہ کی مدت کے دوران ان میں کسی قسم کے کورونا وائرس کے علامات پائے جاتے ہیںتو ایسی صورت میں ان کی جانچ اور علاج کیلئے شریک دواخانہ کیا جائے گا۔وزارت خارجہ کے ذرائع کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق ابتدائی مرحلہ میں انجام دی جانے والی ملک واپسی کی اس مہم کے دوران 19 لاکھ ہندستانی تارکین وطن کی ملک واپسی کے انتظامات کئے جا رہے ہیں اور ان میں 90 فیصد سے زائد کا تعلق خلیجی ممالک سے ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود ہندوستانیوں کی ملک واپسی کے لئے ان کے رجسٹریشن کا ہندوستانی قونصل خانوں میں عمل شروع کیا گیا تھا اورواپسی کے خواہشمندوں کی تعداد کا جائزہ لیا گیا تھا اور اب جو صورتحا ل ہے اس کے مطابق ہندوستان واپس ہونے کے خواہشمندوں کی بڑی تعداد کی واپسی کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ غیر مقیم ہندوستانیوں کی ملک واپسی کی نئی تاریخ اس واپسی مہم کے ساتھ رقم کی جائے گی کیونکہ اب تک اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی واپسی عمل میں نہیں لائی گئی تھی اور نہ ہی ان کی واپسی کے لئے اس قدر بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے تھے۔ ہندوستان نے دنیا بھر میں سب سے بڑی ہندوستانیوں کی ملک واپسی کی مہم میں جو حصہ لیا تھا وہ کویت سے 1لاکھ 70 ہزار ہندوستانیوں کی ملک واپسی کے انتظامات کا تھا ۔ ہندوستانی شہریوں کی 1990 میں خلیج کی جنگ کے دوران ملک واپسی کے انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے چلائی گئی مہم کو اب تک کی سب سے بڑی مہم کہاجا تا تھا لیکن اب کورونا وائرس کی وباء کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو ملک واپس لانے کی مہم کے آغاز کے پہلے مرحلہ میں 19لاکھ ہندوستانیوں کی ملک واپسی کے انتظامات کئے جا رہے ہیںجو کہ تاریخی کارنامہ قرار دیا جائے گا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں اپنے شہریوں کی ملک واپسی کسی بھی ملک کی جانب سے انجام نہیں دی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ 7مئی کو متحدہ عرب امارات سے ہندوستانیوں کے پہلے طیارے سے واپس ہونے کا عمل شروع ہوگا جبکہ مسقط‘ عمان‘ قطر اور سعودی عرب سے واپسی کے خواہشمندوں کی واپسی کا بھی عمل شروع کیا جائے گا۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق صرف خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کی جانب سے ملک واپسی کے انتظامات کی درخواستیںداخل کی جا رہی ہیں اور امریکہ ‘ برطانیہ‘ آسٹریلیاء کے علاوہ کینیڈا سے بھی اس بات کی درخواستیں وصول ہورہی ہیں اور حکومت ہند سے اپیل کی جا رہی ہے کہ ان کی ملک واپسی کے لئے انتظامات کئے جائیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ ان ممالک سے داخل کی جانے والی درخواستوں میں اکثریت طلبہ کی ہے جو ہندوستان واپس ہونے کے خواہشمندہیں۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق حکومت ہند کی جانب سے ان کی درخواستوں پر بھی غور کیا جا رہاہے ۔
