معاوضہ کی ادائیگی کے آغاز پر ہزارہا درخواستوں کی وصولی
حیدرآباد۔9جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے ! حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے سبب ہونے والے اموات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور حقیقی تعداد عوام کے علم میں نہیں لائی گئی ! سال 2020کے بعد سے ہی ریاستی ومرکزی حکومت کے علاوہ مختلف ریاستوں میں حکومتوں کی جانب سے کورونا وائرس کے متاثرین کی حقیقی تعداد اور اموات کو مخفی رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے لیکن اب جبکہ کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والوں کو معاوضہ کی ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا ہے تو اس حقیقت کا انکشاف ہونے لگا ہے کہ ریاست میں کورونا وائرس کی اموات کو حقیقت میں مخفی رکھا گیا تھا ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے گذشتہ یوم یعنی 8جنوری کو جاری کئے جانے والے کورونا وائرس کے بلیٹن میں کورونا وائرس کی وباء کے آغاز سے اب تک فوت ہونے والوں کی جو تعداد دکھائی جا رہی ہے اس کے مطابق 4041 اموات کورونا وائرس کے سبب ہوئی ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کے سلسلہ میں معاوضہ کی درخواستوں کی وصولی شروع کئے جانے کے بعد سے اب تک 26ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے علاوہ ازیں ضلع کلکٹرس کی نگرانی میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی کی جانب سے تاحال 12 ہزار درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے متوفی کے افراد خاندان کو 50ہزار روپئے معاوضہ جاری کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے بلیٹن میں 8جنوری تک 4041 اموات کی توثیق اور 12ہزار سے زائد متوفی افراد کے خاندانوں کو معاوضہ کی اجرائی کے اقدامات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کئے جانے والے بلیٹن میں بتائے جانے والے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والوں کے افراد خاندان کی جانب سے اب تک 12ہزار درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں جن میں2500 درخواست گذارو ںکو معاوضہ کی اجرائی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے۔سینیئر آئی اے ایس عہدیدار مسٹر راہول بوجا سیکریٹری ڈساسٹر مینجمنٹ نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ اب تک 12ہزار متوفی کے افراد خاندان کو معاوضہ کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔محکمہ صحت کے عہدیدارو ں کا کہناہے کہ معاوضہ حاصل کرنے والوں کی تعداد اور سرکاری اعداد و شمار میں ریکارڈ کئے جانے والے فرق کی بنیادی وجہ ان اموات کا سرکاری ریکارڈس میں شامل نہ کیا جانا ہے کیونکہ ابتدائی ایام میں کورونا وائرس کے متاثرین کی بڑی تعداد دواخانہ سے رجوع ہونے سے قبل ہی فوت ہورہی تھی اسی لئے ان کو سرکاری ریکارڈس میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں سے استفسار پر عہدیداروں نے بتایا کہ شہری حدود میں درخواستوں کی وصولی کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی یومیہ 4تا5 ہزار درخواستوں کی وصولی شروع ہوچکی تھی لیکن اب یومیہ 2000 درخواستوں تک وصول کی جا رہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ می سیوا کے ذریعہ داخل کی جانے والی درخواستوں کے ساتھ صداقتنامہ اموات کے علاوہ کورونا وائرس کی پازیٹیو رپورٹ داخل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے اور مابعد کورونا ہونے والی اموات پر بھی معاوضہ ادا کرنے کی شرط کے سبب سرکاری ریکارڈ میں شامل اموات اور کورونا وائرس کے سبب ہونے والے اموات کے معاوضہ حاصل کرنے کے لئے داخل کی جانے والی درخواستوں کی تعداد میں نمایاں فرق نظر آرہا ہے ۔م