تہران ۔ 27 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں حکام نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اندرون ملک نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندی اْن افراد پر بھی لاگو ہو گی جن کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔ اسی طرح “مذہبی مقامات” کے حامل شہر بالخصوص قْم میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور یہاں عارضی طور پر نماز جمعہ کے اجتماعات روک دیے گئے ہیں۔ایرانی ٹیلی ویژن نے چہارشنبہ کی شب بتایا کہ اس بات کا اعلان وزیر صحت سعید نمکی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ نمکی نے واضح کیا کہ لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت والے کئی شہروں میں ٹیموں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان ٹٰیموں کے عناصر وہاں لوگوں کے جسموں کے درجہ حرارت جانچیں گے .. اور وائرس میں مبتلا یا مشتبہ طور پر اس سے متاثرہ افراد کو روک دیا جائے گا۔ایرانی وزیر صحت نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفر سے گریز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شہر میں مشتبہ طور پر کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو 14 روز تک طبی قید میں تنہا رکھا جائے گا۔ایرانی وزیر نے متعدد شہروں بالخصوص قْم میں “مذہبی مقامات” پر عوامی اجتماعات پر پابندی کا بھی اعلان کیا ہے۔ قْم شہر کو ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا گڑھ شمار کیا جا رہا ہے۔مذکورہ مذہبی مقامات اور عبادت خانوں میں آنے والوں کو داخلے سے قبل ہاتھ دھونے کے لیے جراثیم سے پاک مواد، حفاظتی ماسک اور کرونا وائرس کے بارے میں موزوں معلومات فراہم کی جائے گی۔ نماز کے بعد لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روک دیا گیا ہے اور فوری طور پر کوچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی بندش میں مزید تین روز کی توسیع کر دی گئی ہے جب کہ جامعات میں یہ دورانیہ ایک ہفتے کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
رومانیہ میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق
بخاریسٹ، 27 فروری (سیاست ڈاٹ کام) رومانیہ میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے ۔وزیر صحت وکٹر کوسٹاچے نے اس کی اطلاع دی اور کہا کہ رومانیہ کے ایک 20 سالہ نوجوان میں یہ وائرس پایا گیا ہے جو 71سالہ اٹلی کے باشندہ کے رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوا ہے ۔مسٹر وکٹر کے مطابق یہ نوجوان 18سے 22 فروری کے درمیان جنوبی رومانیہ سے آئے اٹلی رہائشی کے رابطے میں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس نوجوان کے خاندان کے دیگر سات رکن اگرچہ اس وائرس سے متاثر نہیں ہیں جو موجودہ وقت میں رومانیہ کے دارالحکومت بخاریسٹ سے تقریبا 300 کلو میٹر دور شمال مشرق میں گرج علاقے میں واقع ایک گھر میں قرنطینہ میں رہ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مقامی وبائی سائنس سینٹر تحقیقات کر رہا ہے اور 33 لوگوں کے خون کے نمونوں کو چیک کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے ، جس کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘یہ دیہی علاقہ میں ہے ، ایک بڑی آبادی والا شہر نہیں اور ہم اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اٹلی رہائشی شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ جنوبی رومانیہ میں کاروبار کے سلسلہ میں آیا تھا اور یہاں پر وہ کئی میٹنگیں کرکے واپس چلا گیا۔
