کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے یونانی ادویات کا بھپپارہ فائدہ مند

   

lدفتر سیاست میں پدم شری ڈاکٹر ایم اے وحید کا عملی مظاہرہ
lعوام کو یونانی طریقہ علاج کے فوائد سے واقف کروانا ضروری
حیدرآباد :۔ ایک ایسے وقت جب کہ ساری دنیا اور خاص طور پر ہمارا ملک کورونا وبا کی گرفت میں ہے اس سے بچاؤ کے لیے حکومت نے رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے ۔ سنیٹائزر استعمال کرنے ، بار بار ہاتھ دھونے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی جارہی ہیں ۔ ایلوپیتھی ، ہومیوپیتھی ، آیوروید اور یونانی طریقہ علاج بھی اپنائے جارہے ہیں ۔ کورونا سے بچنے کے لیے گھریلو نسخوں کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں کے پاس طب نبویؐ موجود ہے ایسے میں اگر ہم طب نبویﷺ کے مطابق احتیاط برتیں اور ادویات استعمال کریں تو بآسانی کورونا کے مضر اثرات سے نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اگر حکومت کورونا پر قابو پانے کے لیے لوگوں میں پائی جانے والی آکسیجن کی سطح میں کمی ( سانس لینے میں تکلیف سے متعلق شکایت ) دور کرنے اور ابتدائی مرحلہ میں ہی وائرس کو ختم کرنے کے لیے یونانی ڈاکٹرس کی خدمات حاصل کرتی ہے تو ہندوستان میں کورونا سے لوگوں کو بچانے میں بڑی مدد ملے گی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتیں چاہے وہ مرکزی یا ریاستی حکومتیں ہوں گاومتر ( گائے کا پیشاب اور گوبر ) کے ذریعہ کورونا کا علاج کرنے کے دعوے کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جب کہ طب یونانی میں چونکہ کلونجی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اس لیے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جن ادویات میں کلونجی شامل ہوتی ہے اس کے استعمال کرنے والوں کو شفا ضرور ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلونجی کے بارے میں ہمارے نبی ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے ’ کلونجی میں تمام بیماریوں کا علاج ہے سوائے موت کے ‘ بہر حال روزنامہ سیاست نے بلالحاظ مذہب و ملت عوام کو کورونا سے بچانے کے لیے یونانی طریقہ طب کے استعمال سے واقف کروانے کا بیڑہ اٹھایا اور ملک کے ممتاز یونانی ڈاکٹر پدم شری ڈاکٹر ایم اے وحید سابق ڈائرکٹر سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی اینڈ آیوش و چیرمین سائنٹفک اڈوائزری کمیٹی وزارت آیوش حکومت ہند و رکن بورڈ آف گورنرس سی سی آئی ایم وزارت آیوش کی خدمات حاصل کیں ۔ جنہوں نے عوام کو Medicated Steam طبی بھانپ لینے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ عملی طور پر یہ بتایا کہ کس طرح یہ بھانپ لی جاتی ہے ۔ اس میں سب سے پہلے کلونجی ، میتھی ، کالی مرچ ، لونگ ، دارچینی ، پودینہ اور ادرک اور تریاق اعظم ( یہ ستِ اجوائن ، ستِ پودینہ ، ستِ کافور سے تیار کیا جاسکتا ہے ) اس کے لیے ایک چمچ استعمال کریں ( ایک لیٹر میں ) ۔ بازار میں تریاق اعظم مختلف ناموں سے دستیاب ہے ۔ پدم شری ڈاکٹر ایم اے وحید نے قارئین سیاست و ناظرین سیاست ٹی وی کو اس بھپپارہ یا بھانپ لینے کے طریقہ سے بھی واقف کروایا اور بتایا کہ سب سے پہلے ایک لیٹر پانی میں چار چمچ کلونجی ، چار چمچ میتھی ، 50 گرام ادرک ، ایک کٹہ پودینہ ، لونگ دایلچی چھ تا 8 دانے ، اتنی ہی مقدار میں کالی مرچ ، دار چینی کے دو تین ٹکرے اور ایک چمچ تریاق اعظم ملا کر پریشر کوکر میں ڈال کر گرم کرلیں اور کوکر کی سیٹی نکال کر وہاں نائیلان گریٹیڈ پائپ لگا کر اس پائپ کے ذریعہ بھانپ لیں ۔ ڈاکٹر ایم اے وحید نے دفتر سیاست میں منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کی موجودگی میں عملی مظاہرہ کیا ۔ کوکر اور پائپس کے استعمال کے لیے سید کلیم احمد نیشنل پائپ ورکر افضل گنج نے ٹیکنیکی تعاون فراہم کیا ۔ اس طرح کے 5 منٹ تک بھپپارہ لینے سے نہ صرف آرام ملتا ہے بلکہ ناک کے نتھنوں وغیرہ میں وائرس موجود بھی ہو تو وہ مفلوج ہو کر ختم ہوجاتا ہے ۔ یعنی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا ۔۔