کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے آج ملک بھر میں جنتا کرفیو

   

صبح 7 تا رات 9 بجے عوام کو گھروں پر ہی رہنے وزیراعظم کی اپیل ۔ملک میں تاحال کورونا وائرس سے 283افراد متاثر

نئی دہلی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہندوستان میں بھی اِس کے مریضوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ مہلک کورونا وائرس سے بچنے کے لئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دو دن قبل کورونا وائرس پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے مختلف احتیاطی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا۔ اسی سلسلہ میں اُنھوں نے اتوار 22 مارچ کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ’جنتا کرفیو‘ کا اعلان کیا اور عوام سے کہاکہ وہ صبح 7 بجے تا رات 9 بجے گھروں پر ہی رہیں تاکہ اِس وباء کو تیزی سے پھیلنے سے روکا جاسکے۔ کورونا وائرس سے تاحال ملک میں 4 افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 283متاثر بتائے گئے ہیں۔ جنتا کرفیو کے تحت انتہائی ضروری کام یا مجبوری کے سوائے لوگوں کو گھروں پر ہی رہنے کے لئے زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ اِس طرح کا اقدام مستقبل میں اِس وباء سے بچنے کے لئے ضروری ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس کی وباء دوسرے مرحلہ میں ہے جس کا پھیلاؤ مقامی سطح پر ہی ہے۔ حکومت نے COVID-19 ٹاسک فورس مرکزی وزیر فینانس کی زیرقیادت تشکیل دی ہے جو کورونا وائرس کے باعث درپیش معاشی چیالنجس سے نمٹے گی۔ وزیراعظم نے ’جنتا کرفیو‘ کے پیش نظر خوفزدہ ہوکر خریداری نہ کرنے پر بھی عوام پر زور دیا ہے۔ اُنھوں نے تیقن دیا کہ حکومت کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور 10 سال سے کم عمر کے بچے گھروں پر ہی رہیں۔ غیر ضروری سفر سے بھی گریز کیا مشورہ دیا گیا ہے۔ ضروری خدمات جیسے نگہداشت صحت، سکیورٹی اور میڈیا کے سوا دیگر تمام کو گھروں پر ہی رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ’جنتا کرفیو‘ کو اُنھوں نے خود پر قابو پانے کی علامت قرار دیا اور کہاکہ ملک کو آنے والے چیالنجس کے لئے تیار رہنے کا اِس سے تجربہ ہوگا۔ وزیراعظم نے ریاستی حکومتوں اور سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ ’جنتا کرفیو‘ سے متعلق عوام میں شعور بیداری کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کی اپیل پر مختلف ریاستوں اور سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے جنتا کرفیو کے موقع پر تعاون کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ 22 مارچ کو شام 5 بجے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے سائرن بجایا جائے جو عوام کے لئے یہ اشارہ ہوگا کہ وہ اپنے گھر کی دہلیز پر یا کھڑکیوں میں یا بالکنی کے قریب آکر اُن لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں جو اِس مشکل گھڑی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی خدمت میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایرپورٹس، ہاسپٹلس، صفائی عملہ، میڈیا اور ٹرانسپورٹ شعبہ کی جانب سے لاکھوں افراد خود کو مشکل میں ڈال کر اپنے فرائض اور خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شام 5 بجے تالیاں بجاکر یا گھنٹی بجاکر اُن کو پانچ منٹ تک سلیوٹ کیا جائے۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سماجی طور پر فاصلہ برقرار رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ اس وقت صبح کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اِس وباء سے کچھ نہ ہونے کا خیال غیر درست ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس وقت کورونا وائرس کے لئے کوئی انجیکشن یا علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔ ان حالات میں احتیاطی اقدامات اور اُس میں شہریوں کو رول بہت اہم ہے۔