تمام بڑے شہرسنسان، عوام نے گھروں پر رہنے کو ہی ترجیح ، اشیائے ضروریہ کیلئے مشکلات کا سامنا
نئی دہلی 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر آج ملک گیر سطح پر کورونا وائرس سے بچنے کے خود مدافعتی اقدام جنتا کرفیو کے دوران لوگ گھروں تک ہی محدود رہے ۔ نقل و حمل کا سلسلہ بھی لازمی خدمات تک محدود رہا۔ وزیر اعظم نریندر نے دو روز قبل قوم سے اپنے خطاب میں عوام سے 22 مارچ کو صبح سات بجے سے نو بجے تک اپنے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی تاکہ ملک کو کسی بھی ممکنہ اندیشے سے بچانے کے ارادے کو تقویت ملے ۔لوگوں نے جنتا کرفیو کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اس دوران سڑکوں پر لازمی خدمات فراہم کرنے والے بشمول صحافیوں کو ممکنہ احتیاطی تدابیر کیساتھ سرگرم دیکھا گیا۔ شام پانچ بجے لازمی خدمات انجام دینے والوں اور گھروں تک آن لائن سامان پہنچانے والوں کے ساتھ لوگوں نے بڑے پیمانے تالیاں وغیرہ بجاکر اظہار یگانگت کیا۔ جمعرات کی شام ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کروناوائرس سے بچنے کے تمام طریقے بتائے تھے اور کہا تھا کہ پوری دنیا اس وقت بہت بڑے بحران سے گذررہی ہے ’’میں آج ہر شہری سے ایک تائید مانگ رہا ہوں، عوامی کرفیو۔ عوامی کرفیو یعنی عوام کے لئے ، عوام کے ذریعہ خود پر لگایا گیا کرفیو‘‘۔ انہوں نے کہا تھاکہ ملک کے تمام شہریوں کو عوامی کرفیو پر عملدرآمد کرنا ہے ۔ اس طرح کی ہماری کوشش اور ہماری قوت برداشت ملک کے مفاد میں کام کرنے کے عزم کا ایک مظہر ہوگی۔ عوامی کرفیو کی کامیابی، اس کا تجربہ، ہمیں آنے والے چیلنجوں کے لئے بھی تیار کریں گا۔وزیر اعظم کی اس اپیل پرآج ملک بھر میں جنتا کرفیو نافذ رہا اور ملک میں نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، پونا، حیدرآباد سمیت تمام شہروں میں کاروبار بھی بند رہے ۔سڑکیں بھی دور دور تک ویران نظر آئیں۔ لوگ کسی بھی کام کے لیے مجمع کے صورت میں کہیں بھی نظر نہیں آئے ۔آج کے کامیاب جنتا کرفیو کے بعد مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے بعض پابندیوں کا دائرہ مزید 15 دن تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا وائرس ’کووڈ۔19‘ کے بڑھتے معاملوں کے مدنظر سبھی مسافر ریل خدمات، میٹرو ریل خدمات اور بین ریاستی بس ٹرانسپورٹ خدمات 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جن 75 اضلاع میں کورونا وائرس کے معاملے پائے گئے ہیں، ان میں لازمی خدمات کو چھوڑکر باقی سبھی خدمات بند رہیں گی۔ کابینی سکریٹری اور وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری کی سبھی ریاستوں کے چیف سیکرٹریز کے ساتھ آج صبح ایک اعلی سطح میٹنگ میں یہ فیصلے کئے گئے ۔ میٹنگ میں اس بات پر اتفاق ظاہر کیا گیا کہ کورونا کے بڑھتے اثر کے پیش نظر پابندیوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے ۔میٹنگ میں متعدد اہم فیصلے کئے گئے جن کے تحت مضافاتی سمیت سبھی ریل خدمات 31 مارچ تک ملتوی رہیں گی۔ مال گاڑیوں کو اس سے الگ رکھا گیا ہے۔ سبھی میٹرو ریل خدمات بھی 31 مارچ تک ملتوی رہیں گی۔ جن 75 اضلاع کے افراد کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے ان میں متعلقہ ریاستیں حکم جاری کرکے یقینی بنائیں گی کہ ان اضلاع میں ضروری خدمات کو چھوڑکر دیگر سبھی خدمات بند رہیں گی۔ اس کے ساتھ ہی بین ریاستی بس ٹرانسپورٹ خدمات بھی 31مارچ تک ملتوی رہیں گی۔