سانس لینے میں تکلیف ، سینہ میں جکڑ اور کھانسی ، کارپوریٹ دواخانوں میں مریضوں میں اضافہ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض جو کہ آئی سی یو میں شریک رہے ہیں انہیں مابعد کورونا وائرس مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور انہیں سانس لینے میں تکلیف کے علاوہ سینہ میں جکڑ اور مسلسل کھانسی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں شہر وں حیدرآباد وسکندرآباد اور تلنگانہ کے بیشتراضلاع سے اب ایسے مریض دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے ٹھیک ہوجانے کے بعد دیگر مسائل کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ کم از کم ایسے 10فیصد مریض ہیں جنہیں ان مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں۔شہر کے خانگی دواخانوں اور سرکاری دواخانوں میں ایسے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ڈاکٹرس کے لئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے اور کہا جارہاہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کی صحت کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے بعد صحت یاب ہونے والوں میں پائی جانے والی یہ علامات درحقیقت کورونا وائرس کے ہی اثرات ہیں اور ان کا بہتر انداز میں علاج کیا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد جن کی صحت میں بگاڑ پیداہونے کے سبب جنہیں آئی سی یو میں رکھتے ہوئے جن کا علاج کرنا پڑا ہے ان میں 10فیصد مریضوں میں یہ کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ وہ وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بیماری کیا ہے لیکن جو لوگ دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں انہیں شدید کھانسی ‘ بخار ‘سانس لینے میں تکلیف کے علاوہ سینے میں درد کی شکایات کا سامنا ہے اور ڈاکٹرس کی جانب سے ان کا علاج انہیں صحت میں جو بگاڑ نظر آرہا ہے اس کے اعتبار سے علاج کیلئے دی جانے والی ادویات دیتے ہوئے کیا جا رہاہے اور اکثر مریضوں کو درد کم کرنے والی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں کورونا وائرس کے علاج اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو بہتر ماحول اور سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں مؤثر ادویات کے ذریعہ صحتمند بنایا جاسکتا ہے۔ شہر حیدرآباد کے خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں سے بھی ایسے مریضوں کی بڑی تعداد رجوع ہونے لگی ہے ۔ چیسٹ ہاسپٹل‘ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ کنگ کوٹھی دواخانہ سے بھی ایسے مریض رجوع ہونے لگے ہیں جو کہ ایک ہفتہ یا10 دن آئی سی یو میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے شریک رہے ہیں۔