کورونا وائرس سے لڑنے میں اقوام متحدہ نے مایوس کیا ، ویکسین انڈیا بنائیگا

,

   

ہندوستان طبی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل ۔ یو این کے فیصلہ ساز ڈھانچہ سے انڈیا کو دور رکھنے پر افسوس ۔ مودی کا جنرل اسمبلی سے خطاب

اقوام متحدہ : وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی وباء کوویڈ ۔ 19 سے لڑنے میں اقوام متحدہ کے رویہ پر آج سوالات اٹھائے اور عالمی برادری کو یقین دلایا کہ ہندوستان اپنی پیداواریت اور اہلیت کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے اس مہلک مرض کو شکست دینے میں ساری انسانیت کی مدد کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 8 تا 9 ماہ کے دوران ساری دنیا کورونا وائرس کی وبا سے پریشان ہے ۔ اس وباء کے خلاف مشترکہ لڑائی میں اقوام متحدہ نظر نہیں آیا ۔ اس کا موثر رول کہیں دکھائی نہیں دیا ۔ مودی نے کہا کہ ایسے معاملوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کی بنیادی خاصیت میں مناسب تبدیلی وقت کی ضرورت ہے ۔ یو این جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے تاریخی عمومی مباحث کے لیے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ بڑھتی وباء کے نہایت مشکل دور میں تک ہندوستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے زائد از 150 ملکوں کو ضروری ادویات بھیجے ہیں ۔ دنیا کا ویکسین کی پیداوار میں سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے ہندوستان آج عالمی برادری کو پھر ایک بار یقین دلانا چاہتا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بھی ہندوستان تیار کرے گا ۔ عالمی وباء سے لڑنے میں یو این کی اثر پذیری پرسوال اٹھانے والے وزیراعظم کے ریمارکس اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں کہ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ اے ) کے رول پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی شدید تنقید کی ہے ۔ انہوں نے اس ہفتہ خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ دنیا کا سب سے اعلیٰ ادارہ صحت عملاً چین کے کنٹرول میں چلا گیا ہے ۔ مودی نے 193 رکنی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہندوستان اور اس کا پڑوس کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کی طبی آزمائشوں میں تیسرا مرحلہ طئے کررہے ہیں ۔ مودی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دنیا سب سے بڑی جمہوریت میں 1.3 ملین نفوس کے ملک کو اقوام متحدہ کے فیصلہ ساز اداروں سے آخر کب تک دور رکھا جائے گا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی ادارہ کے بنیادی ڈھانچہ میں بعض ناگزیر اصلاحات کرنے ہوں گے ۔ اقوام متحدہ کا استحکام اور عالمی ادارے کی خود مختاری دنیا کی بھلائی کے لیے ناگزیر ہے ۔ یو این میں اصلاحات اور طاقتور سلامتی کونسل کی طویل مدت سے معرض التواء توسیع کے لیے وزیراعظم ہند کی پر زور اپیل اس پس منظر میں کہ ہندوستان 15 رکنی کونسل کے منتخب غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی دو سالہ میعاد آئندہ سال یکم جنوری کو شروع کرنے جارہا ہے ۔ مودی نے استفسار کیا کہ آخر کب تک ہندوستان کو اقوام متحدہ کے اہم ترین اداروں سے دور رکھا جائے گا ۔ ایسے ملک کو کس قدر انتظار کرائیں گے جس کی تعمیری تبدیلیاں دنیا کے بڑے حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان میں عالمی آبادی کا زائد از 18 فیصد حصہ ہے ، سینکڑوں زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں ، متعدد فرقے اور نظریات ہیں ، جو صدیوں سے عالمی معیشت کی قیادت کررہا ہے اور سینکڑوں برس بیرونی حکمرانی کو بھی برداشت کیا ہے ۔ ایسے ملک کو اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں غیر اہم جاننا بڑی غلطی ہے ۔ اس لیے اصلاحات ناگزیر ہیں ۔۔