کورونا وائرس سے مسجد حرام کی صفائی کے عمل میں اضافہ

,

   

Ferty9 Clinic

مکہ مکرمہ ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حرمین شریفین کی انتظامی امور کے ذمہ داروں کی جانب سے مسجد حرام اور صحن مطاف کی صفائی کا یوں تو ہمیشہ اہتمام کیا جاتا ہے مگر جب سے کورونا وائرس کی مہلک وبا پھیلی ہے مطاف اور مسجد حرام کی روزانہ صفائی کا عمل مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق حرم مکی، مسجد حرام کے اندرونی مقامات اور صحن مطاف کی نماز فجر سے عشاء کے درمیان تین بار صفائی کی جاتی ہے۔ حرمین شریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار پریزیڈنسی کی طرف سے مسجد حرام اور صحن مطاف کی صفائی اور ہرقسم کے مہلک اثرات اور وائرس کو ختم کرنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انتظامیہ مسجد حرام میں آنے والے نمازیوں اور زائرین کی صحت وسلامتی کیلئے زمین پر چلنے والے ہرطرح کے کیڑے مکوڑوں کو تلف کرنے اور مسجد اور مطاف کے ماحول کو صاف وشفاف رکھنے میں مصروف ہے۔حرمین شریفین جنرل پرزیڈنسی کی طرف سے حرم مکی کو صاف رکھنے کے لیے خصوصی ٹیمیں قائم گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں اپنی اپنی باری پر پوری ذمہ داری کے ساتھ مسجد کی تطہیر، قالینیں تبدیل کرنے، مسجد میں عطر کے چھڑکاؤ اور وائرس سے بچاؤ کے لیے ضروری اسپرے کا چھڑکاؤ کرتی ہیں۔ صحن مطاف کو دن میں سات بار جب کہ مسجد حرام کو نماز فجر سے عشاء کے درمیان تین بار صاف کیا جاتا ہے۔مسجد حرام کی صفائی کا عمل نماز عشاء کے کچھ ہی دیر بعد شروع ہوتا ہے جس میں 140 ملازمین حصہ لیتے ہیں۔ صفائی کے اس عمل میں نماز کی جگہوں پر بچھائی گئی قالینیں اور راہ داریوں پر پلاسٹک کے میٹ اٹھائے جاتے ہیں۔ انہیں صاف کیا جاتا اور ان پر وائرس کش اسپرے کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عطر کا بھی چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔مسجد حرام کی الماریوں، سیڑھیوں اور حرم مکی کے تمام مقامات کی جامع صفائی کی جاتی ہے۔ فرش کو خشک کرنے کے بعد اس پر قالینیں دوبارہ بچھائی جاتی ہیں۔ صفائی کا یہ عمل ہاتھوں کے ساتھ مشینوں اور دیگر آلات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ نماز فجر سے قبل بھی مسجد حرام اور حرم مکی مکمل صفائی کی جاتی ہے۔ صحن مطاف اور مسجد حرام کی صفائی پر چوبیس گھنٹے میں مجموعی طور پر 330 ملازمین کام کرتے ہیں۔