بیجنگ ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چین کے ووہان شہر کے ہاسپٹل کا سربراہ ڈاکٹر کورونا وائرس کے باعث فوت ہوگیا۔ انسانوں میں پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوششوں کے درمیان طبی عملہ کے کئی ارکان بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ چین میں کورونا وائرس پر قابو پانا تو دور کی بات ہے، اب تک اس ترقی یافتہ ملک سے اموات کی تعداد پر بھی قابو پانے میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے جہاں فوت ہونے والوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے جہاں منگل کے روز 98 افراد ہلاک ہوگئے اور مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1860 سے زائد ہوگئی جبکہ متاثرین کی تعداد 72,436 بتائی جارہی ہے۔ جن 98 افراد کی موت واقع ہوئی ہے، ان میں 93 کا تعلق صوبہ ہوبئی سے ہے جو وائرس کا مرکزی علاقہ ہے جبکہ تین افراد کا تعلق ہنان سے اور ہیبئی اور ہنان سے ایک ایک افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق انسانوں سے انسانوں تک پھیلنے والی اس بیماری میں وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ ربط میں آنے کے بعد زائد از 1.41 لاکھ افراد کو انتہائی طبی نگہداشت میں رکھا گیا ہے جبکہ ہوبئی میں تین عارضی ہاسپٹلس کا قیام عمل میں آیاہ ے جہاں زائد از 6960 مریضوں کی گنجائش ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ماہرین کی ایک عالمی ٹیم اس نتیجہ پر پہنچی ہیکہ غذائی بُری عادتیں بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنی ہیں۔ جب کتے، بلی، بندر، سانپ اور چوہے جیسے جانوروں کو بطور غذا استعمال کیا جانے لگے تو نتائج جلد یا دیر سے خطرناک ہی ثابت ہوں گے۔ جانور خود بھی متعدد جراثیم کی آماجگاہ ہوتے ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک چوہے ہوتے ہیں جو ماضی میں طاعون جیسی وباء کی وجہ بھی بن چکے ہیں جس میں ہزاروں افراد فوت ہوئے ہیں۔