کورونا وائرس سے ہندوستانی معیشت اور پیداوار پر سنگین اثرات

   

۔21 روز کے لاک ڈاؤن سے معاشی سرگرمیاںٹھپ۔ غریب عوام ، کسان ، مزدور پریشان

نئی دہلی 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ماہرین معاشیات نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کورونا وائرس کا ہندوستانی معیشت پر بُرا اثر پڑے گا۔
COVID-19
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی شعبے متاثر ہورہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ، آئیل، مالیاتی اداروں کے بشمول ہندوستان کے کئی اہم شعبے غیر معمولی طور پر نقصان اُٹھارہے ہیں۔
Dun & Bradstreet’s
کی تازہ معاشی پیش قیاسی کے مطابق پہلے ہی سے معاشی انحطاط کا شکار ممالک میں کورونا وائرس کا حملہ تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ جن ملکوں میں کساد بازاری کا عمل شروع ہوگیا تھا وہاں کی کمپنیاں دیوالیہ کا شکارہورہی ہیں۔ عالمی معاشی انحطاط سے ہندوستان بھی بچا ہوا نہیں ہے۔ جاریہ سال کے ابتداء ہی سے منفی معاشی اثرات رونما ہورہے تھے، ایسے میں کورونا وائرس کا حملہ ہندوستانی معاشی ترقی کو دھکا پہنچارہا ہے۔ اس ادارہ کے سربراہ ارون سنگھ نے کہاکہ ملک میں 21 دن کے لاک ڈاؤن نے معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ ساری دنیا کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن کا اثر عالمی پیداواری مرکز پر اثر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سربراہی کی کڑی بھی ٹوٹ گئی ہے۔ ارون سنگھ نے کہاکہ ہندوستان کی معاشی پیداوار کو 21 دن کے لاک ڈاؤن نے منجمد کردیا ہے۔ ہندوستان کی اندرون ملک مجموعی پیداوار سال 2020 ء کے لئے 5 فیصد ہونے کی توقع تھی اور سال 2021 ء میں پیداوار کی شرح اب غیر یقینی ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں پر عائد کردہ پابندیوں نے ساری دنیا میں معاشی تباہی مچادی ہے۔ عوام کو ایک جگہ ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اِس لئے یہ معاشی بہتری کے لئے خطرہ ہے۔ اندرون ملک پیداوار کی شرح مارچ 2020 ء کے بعد سے گھٹنا شروع ہوجائے گی۔ صنعتی پیداوار بھی فروری 2020 ء کے دوران جہاں 4-4.5 فیصد تھی اب یہ گھٹ جائے گی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ معاشی پیداوار کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے کیوں کہ کورونا وائرس کے اثرات بھی غیر یقینی ہوتے جارہے ہیں۔ قیمتوں کے معاملہ میں طلب میں کمی اور پیداوار میں بھی کمی آرہی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں۔ دیگر بڑی اشیاء جیسے توانائی، ٹھوس معدنی اشیاء اور فرٹیلائزرس کی طلب میں بھی کمی آئی ہے۔ اِس سے افراط زر نیچے کی طرف چلا جائے گا۔ لاک ڈاؤن نے ملک بھر کے غریب عوام کو سب سے زیادہ پریشان کردیا ہے۔ کسان ، روزانہ کی اُجرت پر کام کرنے والے ، غریب خواتین ، معذور افراد اور سینئر سٹیزنس کو ملنے والی مالی راحت بھی متاثر ہوگی۔ راست راحت منتقلی کے ذریعہ اِن افراد کو ملنے والی مدد رُک جائے گی۔