شعبہ سیاحت اور ہوٹل صنعت کو شدید دھکہ ، دیوالیہ کے دہانے پر پہونچنے کا اندیشہ،و زیراعظم کو مکتوب
نئی دہلی 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کورونا وائرس سے ہندوستان میں 3.8 کروڑ افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔ سیاحت اور ہوٹل صنعت مکمل طور پر تباہ ہوسکتی ہے۔ سیاحت اور ہاسپٹالیٹی شعبہ میں مکمل ورک فورس کا 70 فیصد حصہ بے روزگار ہوجائے گا۔ ہندوستانی سیاحت اور ہوٹل صنعت کے فیڈریشن آف اسوسی ایشن نے یہ بھی کہاکہ اس صنعت کو 12 ماہ کے لئے مالی مدد فراہم کی جانی چاہئے تاکہ یہ سیاحت کے شعبہ سے وابستہ افراد کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ورنہ یہ شعبے دیوالیہ کا شکار ہوں گے۔ اور ہوٹل صنعت بند ہوجائے گی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہوگی۔ FAITH کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات نے سیاحوں کی تعداد کو گھٹادیا ہے جبکہ کئی یادگار مقامات کو حکومت نے بند کردیا ہے۔ اس شعبہ سے وابستہ 5.5 کروڑ افراد کے منجملہ 70 فیصد افراد بے روزگار ہوں گے۔ ملک بھر میں پہلے ہی معاشی سست روی چل رہی ہے اور ملازمین کو نکال دینے کا عمل جاری ہے۔ اب کورونا وائرس کی وجہ سے مزید ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ بے روزگار ہونے والوں کی تعداد تشویشناک ہے جبکہ سیاحت شعبہ سے وابستہ دیگر ایسے لاکھوں افراد ہیں جن پر راست طور پر اثر پڑے گا۔ سیاحت شعبہ سے راست یا بالواسطہ ملازمتیں چلتی ہیں۔ اب حکومت نے سیاحتی مقامات کو بند کردیا ہے اور عالمی سطح پر ہوائی سفر مسدود ہونے کے بعد ہندوستان میں یہ صنعت بُری طرح ٹھپ ہوچکی ہے۔ ہندوستان میں سیاحت بزنس کیس رگرمیوں سے ہونے والی آمدنی گھٹ گئی ہے اور شیئر مارکٹ 28 بلین امریکی ڈالر تک گرگئی ہے۔ اندرون ملک 2 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے۔ ملک کے لئے ایک سال میں سب سے بڑا معاشی جھٹکہ ہے۔ راست طور پر سیاحت کے شعبہ کو 5 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ مالیہ میں کمی آمدنی میں کمی سے سیاحت کا کاروبار تقریباً ٹھپ ہوچکا ہے۔ ایسے میں ہر ادارہ کو اپنے عملہ کی ذمہ داری سنبھالنا اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ سیاحت سے وابستہ فیڈریشن آف اسوسی ایشن نے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے مکتوب میں درخواست کی ہے کہ وہ اس شعبہ کے لئے 12 ماہ کی راحت فراہم کریں۔ قرضوں پر لیا جانے والا سود معاف کیا جائے اور ہمارے ای ایم آئیز پر نرمی دی جائے۔