کورونا وائرس: مظفر پور سنٹرل جیل کے قیدیوں کے ذریعہ ماسک کی تیاری

,

   

دنیا سے الگ تھلگ جیل کی زندگی گزارنے والے قیدیوں کا عالمی چیلنج سے نمٹنے اُٹھ کھڑے ہوناقابل ستائش
مظفر پور کے علاوہ دیگر نو اضلاع کی ضمنی جیلوں میں بھی ماسک کا استعمال
مظفر پور (بہار) ۔ 18 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمالی بہار کے اس ضلع میں جب سے کورونا وائرس کی عالمی سطح پر وباء پھیلنے کی خبریں عام ہوئی ہیں، بڑے پیمانہ پر بین مذاہب عبادت گاہوں میں نہ صرف دعاؤں اور پرارتھنا میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہاں کے تمام ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس اور نرسوں کی روز مرہ کی ڈیوٹی نے سختی اختیار کرلی ہے اور اب ہر ڈاکٹر اور نرس کو زائد وقت دینا پڑ رہا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کی جیل کے قیدیوں نے ماسک بنانے کی ذمہ داری لے رکھی ہے ۔ جیسا کہ یہ معمول ہے کہ جیل کے قیدیوں کو کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے اور ان کی مزدوری جیلر کے پاس جمع ہوتی رہتی ہے جو رہائی کے وقت یکمشت ان کے حوالے کردی جاتی ہے لیکن معمول کے کام سے ہٹ کرجیل کے قیدی کورونا وائرس کی وباء سے بچنے کے لئے ماسک تیار کر رہے ہیں ، حالانکہ بہار میں اب تک کوئی بھی فرد مہلک کووڈ۔19 سے متاثر نہیں پایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے احتیاطی اقدامات کے طور پر جزوی طور پر بند کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مظفر پور میڈیا کی شہ سرخیوں میں تھا جہاں دماغی بخار سے تقریباً 200 بچے فوت ہوگئے تھے۔ لہذا اب حکومت ایسا کوئی موقع دینا نہیں چا ہتی جس سے عوامی زندگی کو ایک بار پھر خطرہ لاحق ہوجائے ۔ مظفر پور سنٹرل جیل میں تقریباً 50 قیدی ماسک بنانے میں مصروف ہیں جس کے لئے وہ زائد وقت (اوور ٹائم) بھی دے رہے ہیں جس کے ذریعہ نہ صرف دیگر ساتھی قیدی بلکہ دیگر عوام بھی کورونا وائرس سے بچنے کیلئے اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سنیل کمار موریہ نے کہا کہ مظفر پور سنٹرل جیل میں کپڑے تیار کرنے کی ایک روایت رہی ہے ، لہذا اب کی بار ذ ہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ کپڑے کا کچھ استعمال ماسک تیار کرنے میں کیا جائے ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ماسک کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی سربراہی بہت کم ہے ۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ ماسک کی تیاری محدود پیمانے پر کی جارہی ہے اور اس کا استعمال صرف جیل کے اندر ہی کیا جاسکے گا جس میں جیل کا اسٹاف بھی شامل ہے لیکن یہ ماسک صرف مظفر پور جیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں نو ڈسٹرکٹ جیلوں اور ضمنی جیلوں کو بھی روانہ کیا جائے گا جو مظفر پور سنٹرل جیل کے دائرہ کار میں آتے ہیں ۔ قیدیوں کے اس ہنر سے مقامی انتظامیہ بیحد مسرور اور مرعوب نظر آتا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ ان قیدیوں نے جنہیں ان کے جرائم کی سزا کے طور پر جیل میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے ، وہ عالمی چیلنج سے نمٹنے سامنے آئے ہیں جو یقیناً ایک قابل ستائش قدم ہے ۔ ہم چاہے جتنی بھی احتیاط کرلیں لیکن یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ وائرس کس پر اثر انداز ہوگا، لہذا اس تناظر میں جیل کے قیدیوں کا خود اپنی اور جیل اسٹاف کی حفاظت کے لئے ماسک تیار کرنے کا عمل قابل ستائش ہے۔