حیدرآباد :۔ ہندوستان میں ویکسین کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ اگر کوئی ویکسین لیتا ہے تو وہ ٹرائیل کا حصہ رہے گا ۔ اگر کوئی شہری ٹرائیل ویکسین لینے کا خواہش مند ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنا انرول کروا کر مفت ویکسین لے سکتا ہے ۔ ویکسین کو ایک بار جب اجازت مل جائے گی تب اس کی مارکیٹنگ کے علاوہ یہ ویکسین خریداری پر دستیاب ہوگا ۔ یہ بات ڈاکٹر پی شراون کمار سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل حیدرآباد نے بتائی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین وائیرس کے لیے متبادل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں مختلف وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسین صحت مندی کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے لیے ہے جب کہ کم قوت مدافعت رکھنے والے ایسے افراد جو ذیابیطس یا گردے کے مرض میں مبتلا ہوں ویکسین لینے پر ان میں اینٹی بائیوٹیک میں اضافہ کا امکان نہیں ہے ۔ ایسے افراد جو پہلے ہی وائرس کا شکار ہوئے ہوں اور ان کے بلڈ اسٹریم میں وافر مقدار میں اینٹی بائیوٹک موجود ہو تو ویکسین سے ری ایکشن کا قوی امکان ہے ۔ لہذا ایسے افراد کو چاہئے کہ وہ وائیرس سے متاثر ہونے کے تین ماہ تک ویکسین نہ لیں ۔ ویکسین کا دوسرا نسخہ لینے والے شخص کے اندر وائرس کے قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا تاہم یہ مدافعت 90 تا 94 فیصد ویکسین پر منحصر ہے ۔ دوسرے نسخہ کے 42 دن بعد قوت میں اضافہ ہوگا ۔ بعض وقت تین ماہ کا وقت بھی درکار ہوسکتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرا نسخہ لینا ہوگا جو کہ پھر ایک مرتبہ 42 دن بعد اس کا اثر ثابت ہوگا ۔ لہذا ویکسین لینے والے شخص کو ہر تین تا چھ ماہ بعد ویکسین لینا ہوگا تاہم اس کا دار و مدار ویکسین کے فراہم کردہ قوت مدافعت پر منحصر رہے گا ۔ ہر ایک آخری مرحلہ کے ویکسین کے 42 یوم بعد وائرس کا شکار ہوتا ہے تو اس شخص کو ویکسین کا پھر ایک نسخہ لینے کی ضرورت پڑے گی ۔ ایسے شخص کو منفی اثرات بھی ممکن ہے ۔ اگر کوئی شخص ویکسین لیتا ہے تو اس کے اندر تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں تاہم یہی ویکسین سکنڈ ڈوز کے بعد اینٹی بائیوٹک پیدا کرنے کیلئے غیر کارکرد ثابت ہوسکتا ہے انہوں نے ان تمام نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ویکسین وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا اور استعمال کنندے کو ذہنی اطمینان فراہم کرے گا تاہم اس کا کوئی اور دوسرا حل نہیں ہے ۔ لیکن عوام کو تمام تر احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔۔
