بڑے شورومس اور تاجرین کی پیشکش ، شہریوں میں ٹیکہ کی اہمیت بڑھانے کا احساس
حیدرآباد۔18 اگسٹ(سیاست نیوز) کورونا وائرس کی ٹیکہ اندازی کے لئے شہریوں کو راغب کرنے کے لئے اب بڑے شورومس کے ساتھ دیگر تاجرین نے بھی ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو رعایتوں کا اعلان کرنا شروع کردیا ہے اور دونوں ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو دی جانے والی رعایتوں کے علاوہ بعض مقامات پر کورونا وائرس کا ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کو اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ ٹیکہ حاصل کرلیں تاکہ محفوظ ماحول کی فراہمی اور کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ ہندستان میں ٹیکہ اندازی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی ایسی کوئی پیشکش نہیں کی جار ہی تھی لیکن جب ڈاکٹرس‘ طبی عملہ اور صفائی عملہ کی ٹیکہ اندازی کے بعد عام شہریوں میں ٹیکہ اندازی مہم شروع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی دونوں شہروں کے کئی شورومس اور چین آؤٹ لیٹس کی جانب سے ٹیکہ اندازی کروانے والوں کے لئے بھاری رعایتوں کا اعلان کیا جانے لگا تھا تاکہ ٹیکہ اندازی کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ٹیکہ اندازی کو فروغ اور اپنے تجارتی اداروں کی تشہیر کی جاسکے۔ دو برسوں سے کورونا وائرس کے سبب بازاروں میں مندی چھائی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں شعور بیدار کرنے کیلئے کی جانے والی ان کوششوں کے ساتھ تاجرین نے اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی اور مسلسل ٹیکہ اندازی کے ساتھ کئی ریستوراں ‘ پٹرول پمپس کے علاوہ شاپنگ مالس میں یہ بورڈ آویزاں کئے جانے لگ گئے کہ ان کے پاس خدمات انجام دینے والا مکمل 100 فیصد عملہ ٹیکہ حاصل کرچکا ہے اور وہ کورونا وائرس سے محفوظ ہے۔ ملک میں 22 اگسٹ کو منعقد شدنی راکھی کے تہوار پر بھی اب ٹیکہ اندازی کے اثرات نظر آنے لگے ہیں اور شہر حیدرآباد کے علاقہ بیگم بازار کے راکھی بنانے والے تاجرین کی جانب سے کورونا وائرس کی دونوں خوارک حاصل کرنے والوں کو 50 فیصد تک کی رعایت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ دو سال سے راکھی تہوار کے دوران بھی کاروبار کی حالت ابتر رہی لیکن اس مرتبہ کاروبار بہتر ہونے کی توقع ہے اور راکھی بنانے والوں کی جانب سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کورونا وائرس کے دونوں ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں میں ٹیکہ کے حصول کے رجحان میں اضافہ ہوسکے ۔ حکومت ‘ سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں اور بڑے کارپوریٹ تاجرین کے بعد اب چھوٹے تاجرین کی جانب سے اس طرح کی رعایات کے اعلان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں شہریوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہونے لگا ہے اور وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے لگے ہیں۔M
