کورونا وائرس ٹیکہ کے لیے من مانی قیمتیں وصول

   

خانگی دواخانوں کا راج ، حکومت تلنگانہ کے احکامات بے خاطر
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآبادو سکندرآباد کے خانگی دواخانوں میں کورونا وائرس کے ٹیکہ کے لئے من مانی قیمتوں کی وصولی کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے خانگی دواخانوں نے Cowin ویب سائٹ پر ہی قیمتیں ظاہر کردی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ان کی قیمتوں کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں حکومت کے احکامات کے مطابق ٹیکہ کی قیمت وصول کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے دواخانوں میں کووی شیلڈ کے لئے 800 سے1000روپئے وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ کو ویکسین کے لئے 1200سے 1260 روپئے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی جانب سے خانگی دواخانو ںمیں ٹیکہ اندازی کیلئے قیمتوں کا تعین کیا گیا تھا لیکن اب تبدیل شدہ حالات کے دوران خانگی دواخانوں کی جانب سے اپنے طور پر قیمت وصول کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے خانگی دواخانوں کو دیئے گئے اختیارات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے وہ قیمت کا تعین کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں میں خانگی دواخانو ںمیں من مانی وصولی کے سلسلہ میں حکومت کو کوئی شکایات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خود حکومت کی جانب سے تیار کردہ Cowin ویب سائٹ پر یہ قیمتیں درج ہیں۔ سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کی جانب سے تیار کردہ کووی شیلڈ کی قیمت کم ہے جبکہ بھارت بائیوٹیک کی جانب سے تیار کردہ کو ویکسین کی قیمت 1200 اور اس سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور شہریوں کی جانب سے خانگی دواخانو ںمیں ٹیکہ حاصل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہریوں کو سرکاری ٹیکہ اندازی مراکز پر فراہم کی جانے والی سہولتوں پر اعتماد نہیں ہے اسی لئے وہ خانگی دواخانوں میں وہ رقم ادا کرتے ہوئے ٹیکہ حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں اور خانگی دواخانہ میں وقت حاصل کرنے میں ہونے والی دشواریوں اور من مانی قیمتوں کی وصولی کے باوجود بھی وہ خانگی دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں۔ شہر کے بعض دواخانوں میں حکومت کی جانب سے متعین کردہ قیمتوں پر بھی ٹیکہ اندازی کا عمل جاری ہے علاوہ ازیں شہر کے کئی دواخانوں میں آئندہ ماہ Sputnik V ٹیکہ کی سہولت بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے ۔