کورونا وائرس پر چیف منسٹر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں

   

محمد علی شبیر کا مطالبہ، عوام میں خوف و دہشت دور کرنے کی ضرورت
حیدرآباد ۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) سینئر کانگریسی قائد اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں کورونا وائرس سے عوام میں خوف و دہشت کا حوالہ دیا اور چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں۔ موجودہ صورتحال سے نمٹنے، افواہوں پر قابو پانے اور عوام میں خوف کو دور کرنے کے لئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئے ۔ محمد علی شبیر نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ مائینڈ اسپیس بلڈنگ میں آئی ٹی کے ایک ملازم کو کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں اطلاع نے ہائی ٹیک سٹی علاقہ میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مہلک وائرس کے 19 کیسس کنفرم ہوئے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ حکومت کو مزید چوکسی کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ حکومت گزشتہ سال کی طرح اپنی غلطیوں کا اعادہ نہ کریں ، جس وقت وہ ڈینگو سے نمٹنے میں ناکام رہی تھی۔ محمد علی شبیر نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے بارے میں ہر کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک کو چاہئے کہ وہ احتیاطی قدم اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل میں شریک کرنے کی اطلاعات نے نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں بھی خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا ہے۔ عوام کو اس مرض کے بارے میں واقف کراتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور بیداری کی ضرورت ہے ۔ کانگریسی قائد نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں وبائی امراض سے نمٹنے میں حکومت ناکام ثابت ہوئی جس کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں اموات واقع ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بارے میں عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی وزیر صحت ای راجندر کی جانب سے جائزہ اجلاس کافی نہیں ہے ۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں تاکہ وائرس کے بارے میں عوام میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے اعتماد بحال کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں وائرس کے علاج کے سلسلہ میں تمام تر احتیاطی اقدامات کئے جائیں تاکہ کوئی بھی مریض فوری طور پر علاج سے محروم نہ رہے۔ محمد علی شبیر نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو کی جانب سے نالے کی اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے فارم ہاؤز کی تعمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ جی او 111 کے تحت ایسی اراضیات پر تعمیرات ممکن نہیں جہاں سے تالاب شروع ہوتا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ایسے شخص کی جانب سے قانون شکنی مناسب نہیں جو چیف منسٹر کے عہدے کی دوڑ میں ہو۔ انہوں نے جنواڑہ میں تعمیر کردہ فارم ہاؤز کا معائنہ کرنے پر رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی گرفتاری کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ فارم ہاؤز کی تعمیر کے بارے میں کے ٹی آر کو تمام دستاویزات عوام کے روبرو پیش کرنا چاہئے ۔