کورونا وائرس کا عالمی تجارت پر اثر، کئی صنعتیں متاثر

,

   

چین کیلئے 25 ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ، چین کے سفر سے گریز کا ملازمین کومشورہ
بیجنگ ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی ہے اور اس کے علاوہ 20000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیس سامنے آچکے ہیں۔ چین سے باہر کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص فلپائن میں اور ایک ہانگ کانگ میں تھا۔کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے تیل فراہم کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور ان کے اتحادیوں کی رواں ہفتے ملاقات متوقع ہے۔جنوری کے مہینے میں قیمتوں میں اضافے کے بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اب تک 20 فیصد کمی دیکھنے میں آئی چینی نئے سال کے موقع پر چھٹیوں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین بھر میں سفری پابندیاں لاگو کر دی گئی تھیں اور دکانیں بند تھیں۔چین دنیا بھر میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل استعمال کرتا ہے۔ لیکن ان چھٹیوں اور تجارتی سرگرمیوں کے بند ہونے کے باعث وہاں تیل کی طلب میں واضح کمی آئی ہے۔کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے طیاروں میں ڈالے جانے والے جیٹ فیول کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی کئی فضائی کمپنیوں نے چین کے لیے اپنے پروازیں معطل کر دی ہیں اور ملک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔چین میں تیل کی طلب میں واضح کمی کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کاروباری سرگرمیوں میں کمی آ رہی ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین کی اپنی اقتصادی ترقی کی شرح آہستہ ہو رہی تھی اور تین دہائیوں میں سب سے کم شرح تک پہنچ گئی ہے۔چینی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک تھنک ٹینک کے ماہر معاشیات ڑانگ منگ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی سالانہ اقتصادی ترقی کی کی شرح اس سال کے پہلے تین ماہ میں پانچ فیصد سے بھی کم ہو گی۔واضح رہے کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور وہاں پر کاروبار میں منفی رحجان کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں متاثر ہو سکتی ہیں۔خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک تیل کی پیداوار میں کمی لانے کے بارے میں گفتگو کریں۔اوپیک تنظیم کے ممبر رکن ایران نے پیر کو کہا کہ تیل کی قیمتوں کا سہارا دینے کے لیے اقدامات لیے جائیں۔پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی سبزیاں جیسے لہسن، ادرک کو سمندری راستے کے ذریعے چین سے منگوایا جاتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تجارت میں کمی آئی ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کراچی میں سبزیوں کی درآمد سے وابستہ تاجر محمد صالح کا کہنا ہے کہ پہلے ہر ہفتے 100 کنٹینر آتے ہیں جن میں پچاس لہسن اور پچاس ادرک کے ہوتے تھے اور ہر کنٹینر میں تیس ٹن مال ہوتا تھا۔’پانچ اور گیارہ فروری کی جو شپمنٹس تھیں وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ آخری شپمنٹ 28 جنوری کو روانہ ہوئی تھی، ایک ہفتہ وہاں چھٹی تھی اور اب کورونا وائرس کی وجہ سے دس تاریخ تک ان کی چھٹیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔’پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سبزی منڈی میں اب لہسن اور ادرک کی قیمت میں 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ محمد صالح کے مطابق لہسن پہلے ڈھائی سو رپے کلو تھا جو اس وقت تین سو رپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں کی سبزی منڈیوں اور سپر سٹورز میں لہسن کی قیمت 400 رپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔