مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے سے ڈاکٹرس قاصر ، طبعی اموات سے شہری تناؤ کا شکار
حیدرآباد : شہر حیدرآباد کے قبرستانوں میں روزانہ سینکڑوں نئی میتوں کی تدفین عمل میں لائی جارہی ہے اور قبرستانوں میں متوفی کے رشتہ داروں کی آمد و رفت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے اہم و بڑے قبرستان کے علاوہ معروف اولیاء اللہ کے احاطوں میں گورکن کی خدمات انجام دینے والے ہمہ وقت مصروف رہنے لگے ہیں اور بیشتر مقامات پر گورکن قبر کی کھدوائی کے لیے سبل کی جگہ مشین کا استعمال کررہے ہیں تاکہ وقت کی بچت کی جاسکے ۔ شہر میں کورونا وائرس کی وباء کے ساتھ عوام میں پائے جانے والے خوف و دہشت کے ماحول کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیوں کہ عوام میں اموات اور کورونا متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافہ سے ذہنی تناؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ شہر میں ہونے والی تمام اموات کورونا وائرس کے سبب نہیں ہیں بلکہ شہر کے کئی خانگی دواخانوں میں کورونا وائرس کے رہنمایانہ خطوط کے سبب ابتدائی طبی مدد فراہم نہ کئے جانے کے باعث بھی کئی اموات واقع ہورہی ہیں ۔ موسمی بیماریوں کے دور میں تمام علامات کو کورونا وائرس سے جوڑ دئیے جانے کے سبب کئی دواخانوں میں ڈاکٹرس مجبور و بے بس ہیں کیوں کہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق وہ فوری ابتدائی طبی مدد فراہم کرنے سے قاصر ہیں ۔ قلب پر حملہ کے مریض کو کورونا وائرس سے قبل جب دواخانہ لیجایا جاتا تھا تو اسے کوئی دوا دینے سے پہلے طبی عملہ کی جانب سے سینے پر دباؤ ڈالتے ہوئے سی پی آر دیا جاتا تھا تاکہ قلب کو دوبارہ کارکرد کیا جاسکے اور اسے ابتدائی طبی مدد کہا جاتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وباء کے بعد قلب پر حملہ کے مریض کو سی پی آر دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ جب تک مریض کا کورونا کا معائنہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اسے قریب سے نہیں دیکھا جارہا ہے ۔ شہر میں ہونے والی بیشتر اموات قلب پر حملہ اور عارضہ تنفس کے سبب ہورہی ہیں اور عارضہ تنفس کو بھی کورونا وائرس کی علامات میں شامل رکھے جانے کے سبب ان مریضوں کا بھی فوری علاج ممکن نہیں ہورہا ہے جو کہ ہلاکت خیز ثابت ہونے لگا ہے ۔ حکومت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے اگر ان مریضوں کا فوری ریاپڈ ٹسٹ کٹ کے استعمال کے ذریعہ کورونا وائرس ٹسٹ کرتے ہوئے انہیں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کئی مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے جو کہ عارضہ تنفس اور عوارض قلب کے علاوہ دیگر بیماریوں کے سبب دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں ۔۔