آئی ٹی مراکز کے قریب مکانات و فلیٹس خالی ، ملازمین آبائی وطن واپس
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے سبب سال گذشتہ سے اب تک جاری صورتحال کا اثر ان جائیدادوں کی قیمتوں پر ہونے لگا ہے جو کہ کرایہ کی آمدنی کے حصول کی غرض سے خریدی گئی تھیں اور گذشتہ دیڑھ سال کے دوران ان جائیدادوں سے کوئی کرایہ یا بے انتہاء کم کرایہ حاصل ہونے کے سبب ان جائیدادوں کے مالکین معاشی بحران کا شکار ہونے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے مراکز کے قریب موجود علاقوں میں جہاں فلیٹس اور مکانات کرایہ پر حاصل کرنے کا رجحان کافی تیز تھا اس میں گذشتہ ایک سال سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اب دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے دوران حالات مزید ابتر ہونے لگے ہیں۔ سال گذشتہ لاک ڈاؤن کے فیصلہ کے ساتھ ہی آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے باعث آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین جو کہ کمپنیوں کے دفاتر میں خدمات انجام دیا کرتے تھے اور دوسرے شہروں سے حیدرآباد میں رہتے ہوئے خدمات انجام دے رہے تھے وہ اپنے آبائی مقامات کو منتقل ہونے لگ گئے جس کی وجہ سے ان جائیدادوں کو دوسرے کرایہ دار حاصل ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرتھا ۔ سال 2021کے آغاز کے ساتھ ہی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ آئی ٹی کمپنیوں میں دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز ہونے لگ جائے گا اور اپنے آبائی مقامات کو واپس ہونے والے ملازمین واپس آئیں گے لیکن نئے سال کے آغاز کے اندرون3ماہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے دوبارہ جوں کے توں موقف پر لاکھڑا کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اب مالکین جائیداد کی جانب سے کرایہ میں تخفیف کرتے ہوئے کرایہ دارو ںکو اپنی جانب راغب کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں کے مضافاتی علاقوں گچی باؤلی‘مادھاپور‘ شیخ پیٹ‘ مدینہ گوڑہ ‘ ناچارم‘ اپل‘ اے اس راؤ نگر کے علاوہ دیگر علاقو ںمیں جہاں انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین رہا کرتے تھے ان علاقو ںکے کرایوں میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ فلیٹس اور مکانات کے مالکین کی جانب سے اپنی جائیدادوں کے کرایوں میں کمی کے ذریعہ اب مقامی شہریوں کو جائیداد کرایہ پر دینے کے لئے آمادگی ظاہر کی جانے لگی ہے جبکہ بیشتر جائیدادوں کے مالکین کی جانب سے ایک سال قبل تک بھی مقامی شہریوں کو اپنی جائیداد کرایہ پر دینے سے انکار کیا جاتا تھا۔