کورونا وائرس کی تیسری لہر سے محفوظ رہنے ماسک لازمی

   

پہلی اور دوسری لہر میں حکومت کے ناکافی اقدامات، اپنی احتیاط آپ کرنے کی اشد ضرورت

حیدرآباد: تیسری لہر کے دوران کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے کہ ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے کیونکہ پہلی اور دوسری لہر کے دوران حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے ناکافی ثابت ہونے اور شہریوں کے لئے طبی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات میں ناکامی سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ریاستی حکومت ہو یا مرکزی حکومت ہو انہیں شہریوں کی صحت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ شہریوں کو اپنے اور اپنے افراد خاندان بالخصوص بچوں کو کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران متاثر ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے لازمی ہے کہ وہ ماسک کے لازمی استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ کورونا وائرس کی صورت میں ریاست تلنگانہ میں ہونے والی اموات اور متاثرین کی تعداد کو مخفی رکھے جانے کے انکشاف پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جا رہاہے لیکن دوسری لہر کے دوران دواخانوں میں بسترو ںکی عدم دستیابی ‘ آکسیجن کی قلت ‘ انجکشن کی قلت ‘ ادویات نہ ملنے کے علاوہ دیگر مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جار ہاہے کہ انشورنس کمپنیو ںکو وصول ہونے والے ادعاجات کے اساس پر جاری کی جانے والی تفصیلات درست ہیں۔ پہلی اور دوسری لہر کے دوران ہونے والی اموات کے سبب جو حالات کا سامنا شہریو ںکو کرنا پڑا ہے اس میں ضعیف العمر اور نوجوان شامل تھے لیکن تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور بچوں کے وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں وہ انہیں ہونے والی تکالیف کے اظہار نہیں کرسکتے اسی لئے سخت احتیاط کے ذریعہ ہی کورونا وائرس کی تیسری لہر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تیسری لہر پر قابو پانے کے لئے لازمی ہے کہ ماسک کے استعمال کے علاوہ بچوں کو گھروں سے نکلنے سے روکنے کے علاوہ انہیں پر ہجوم تقاریب کا حصہ بننے نہ دیں اور نہ ہی ان کی صحت میں معمولی بگاڑ کو نظر انداز کیا جائے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ابتداء سے ہی کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے اقدامات کے طور پر ماسک کے استعمال ‘ صفائی کے خصوصی خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی جا رہی ہے اور دوسری لہر کی وجوہات کے سلسلہ میں بھی اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن میں لائی جانے والی نرمی اور رعایتوں کے بعد ماسک کے استعمال کو ترک کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں وائرس تیزی سے پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے اور کئی لوگوں کی جانیں ضائع ہوگئیں۔ اب جبکہ تیسری لہر کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں ایسی صورت میں ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کے اقدامات کے ذریعہ ہی بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے تیسری لہر کے لئے سرکار ی طور پر تیاریوں کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن دوسری لہر کے لاک ڈاؤن سے قبل بھی حکومت کی جانب سے بارہا اس بات کا اعلان کیا جا تا رہا تھا کہ حکومت ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور بارہا یہ کہا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا لیکن لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ ریاست میں دواخانوں کی صورتحال سے حکومت کے اعلانات اور دعوؤں کی قلعی کھل گئی اسی لئے شہریوں کو حکومت کے اعلانات پر اعتماد سے زیادہ اپنی احتیاط کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔