دہلی کا اجتماع لاک ڈائون سے پہلے ہوا تھا، قومی سکریٹری سی پی آئی ڈاکٹر نارائنا کا بیان
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے تبلیغی مرکز نئی دہلی میں اجتماع کو بعض گوشوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع میں شریک افراد میں وائرس کے اثرات پائے جانے کو کسی ایک مذہب سے جوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اور 15 مارچ کو نئی دہلی کے مرکز میں اجتماع منعقد ہوا تھا اس وقت ملک میں لاک ڈائون کا آغاز نہیں ہوا۔ 22 مارچ سے لاک ڈائون کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل مساجد، منادر اور چرچس میں عبادتیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری تھیں۔ اجتماع سے واپس ہونے والے افراد میں کورونا وائرس پایا گیا اور تلنگانہ و آندھراپردیش میں کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے دہلی سے واپس آنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے دوست احباب اور افراد خاندان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر معائنے کے لیے رجوع ہوں۔ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل آوری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سے آنے والے افراد کی نشاندہی حکومت کے لیے آسان نہیں ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ کورونا کے کیسس کی آڑ میں ایک مذہب کے خلاف مہم چلانا بدبختانہ ہے۔ دہلی کے مرکز میں یہ لوگ اس وقت جمع ہوئے تھے جب ملک میں لاک ڈائون کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ سی پی آئی، کورونا کیسس کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس مہلک وائرس سے بچائو کیلئے حکومت اور حکام سے مکمل تعاون کرنا چاہئے۔ لاک ڈائون اور تحدیدات عوام کی بھلائی کیلئے ہیں۔
