واشنگٹن ۔ 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چینی میں کورونا وائرس کی وبا بظاہر ابھی تک کنٹرول میں دکھائی نہیں دے رہی۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ محکمہ? صحت کے کارکنوں کو بھی وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اسی طرح چینی صوبے ہوبے کے ہاسپٹلس میں 5000 سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ نئی تشخیص کے بعد اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 64000 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ چینی حکام کے مطابق 1700 سے زائد ہسپتالوں کے ملازمین میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان میں سے چھ ہیلتھ ورکرز بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد دم توڑ چکے ہیں۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ تمام تر چینی کوششوں کے باوجود کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں فی الحال کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ? صحت نے کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کو ‘کووڈ انیس
(COVID-19)
کا نام دیا ہے۔ اس بین الاقوامی ادارے نے پہلے ہی گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر رکھا ہے۔چین کے ہمسایہ ممالک میں بھی وائرس سے پیدا ہونے والی نمونیا نما بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ کمبوڈیا، جزیرہ نما کوریا، جاپان اور ویت نام میں وائرس کے پھیلنے کا خوف پایا جاتا ہے۔ امریکہ نے چین کی اتحادی ہمسایہ ریاست شمالی کوریا کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی محدود صلاحیت پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔واشنگٹن نے اس کمیونسٹ ملک کی مدد کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت طبی تنظیموں اور بین الاقوامی کمیونٹی کی اْن امدادی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، جو شمالی کوریا میں میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے کی جا رہی ہیں۔ شمالی کوریا نے اپنی چین کے ساتھ جڑی سرحد پہلے ہی بند کر دی ہے اور مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔