دہلی فرقہ وارانہ تشدد اور کورونا وائرس سے سیاحتی ، شہری ہوا بازی کے شعبے بھی شدید متاثر
نئی دہلی ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : کورونا وائرس دنیا کے تقریبا 72 ممالک تک پھیل گیا ہے ۔ اس کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ جب کہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے ۔ ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے مقام پر اٹلی 107 ہلاکتوں کے ساتھ دوسرے اور 70 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ ایران تیسرے مقام پر ہے ۔ کورونا وائرس سے صرف چین پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے یا اس کی معیشت متاثر ہوئی بلکہ عالمی معیشت شدید متاثر ہوگئی ہے ۔ بلوبرگ بلینئرس انڈکس اور دوسرے اقتصادی اداروں کے مطابق کورونا وائرس سے سیاحتی شہری ہوا بازی تجارتی اور دیگر کئی شعبے متاثر ہوئے ہیں ۔ دنیا کے شیرز بازاروں میں بھی تباہ کن گراوٹ آئی ہے ۔ ہندوستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی یہ دعویٰ کررہے تھے کہ ہندوستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن حقیقت سب جانتے ہیں کہ مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معیشت پہلے ہی سے لڑکھڑا رہی تھی ایسے میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد اس پر کاری ضرب لگی ۔ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی خطرناک حد تک کمی آئی ۔ ہندوستان میں سیاحت اور شہری ہوا بازی کے شعبوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ۔ اس سلسلہ میں ملک کی ٹراویل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث صرف دہلی کے ٹراویل آپریٹرس کو 200 تا 300 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ اب اگر اس میں فرقہ وارانہ تشدد کے نقصان کو بھی شامل کرلیا جائے تو وہ 400 تا 500 کروڑ روپئے تک پہنچ جائے گا ۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان چین میں تیار کردہ خام مال اور مختلف اشیاء بشمول آٹو پارٹس ( گاڑیوں کے پرزے ) پر انحصار کرتا ہے ۔ الیکٹرانکس ، انجینئرنگ گڈس اور کیمیکلس بھی ہم چین سے منگواتے ہیں ۔ اسی وجہ سے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 70.4 ارب ڈالرس تک پہنچ گئی اور اس میں ہندوستانی ایکسپورٹس 16.8 ارب ڈالرس مالیتی بتائی جاتی ہے ۔ اگر ہم ملک میں بیرونی سیاحوں کی آمد کا جائمہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 2019 میں 10.9 ملین بیرونی سیاح ہندوستان آئے تھے جن میں چینی سیاحوں کی تعداد 3.12 فیصد تھی ۔ دوسری طرف ہندوستان نے کئی ملکوں کے شہریوں کو جاری کردہ ویزوں کو عارضی طور پر معطل کردیا ۔ شہری ہوا بازی کی کمپنیوں نے اپنی پروازیں متاثرہ ملکوں کے لیے بند کردی ۔ آپ کو بتادیں کہ ایک پرواز کی منسوخی سے 55 تا 72 لاکھ روپیوں کا نقصان ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ عالمی بنک بھی بلوبرگ انٹلی جنس رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس 72 ملکوں تک پھیل گیا اور سارس وائرس ، سوائن فلو ایبولا اور زکاء وائرس سے کیس زیادہ مالی نقصانات ہوئے ہیں ۔ ہم چین اور ہندوستان کی باہمی تجارت کی بات کررہے تھے چین میں 70 ہزار تھیٹروں کو بند کردیا گیا جس کا اثر ہالی ووڈ کی آمدنی پر بھی پڑا ہے ۔ ٹیلی ویژن کے 75 فیصد اور اسمارٹ فونس کے 85 فیصد اجزاء چین سے ہندوستان لائے جاتے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گذشتہ ہفتہ کورونا وائرس سے عالمی بازاروں میں ہوئی اتھل پتھل کے نتیجہ میں دنیا کے ارب پتیوں اور سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ 500 ارب پتیوں کو ایک ہفتہ میں 444 ارب ڈالرس کا نقصان برداشت کرنا پڑا جب کہ صرف 10 ارب پتیوں کو 83.4 ارب ڈالرس کا نقصان ہوا ۔ جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ امیزان کے چیف بیزوس کو 14.1 ارب ڈالرس کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ وارنابفے کو 9.8 ارب ڈالرس ، ایلان ماسک کو 8.9 ارب ڈالرس ، مارک زکر برگ کو 8.5 ارب ڈالرس اوراکل کے لاری ایلسن کو 7.7 ارب ڈالرس ، LVMH کے برنارڈ ارنالٹ کو 7.4 ارب ڈالرس ، الفابیٹ کے لاری پنچ کو 7.3 ارب ڈالرس ، سرجی برن کو 7 ارب ڈالرس اور امانیو اور ٹیگا کو 6.1 ارب ڈالرس کا نقصان ہوا ۔ بلومبرگ پلنپر انڈکیس کے مطابق ایک ہفتہ میں ہی مکیش امبانی کو 5 ارب ڈالرس ، آدتیہ برلا گروپ کے کمارامنگلم برلا کو 884 ملین ڈالرس ، عظیم پریم جی کو 869 ملین ڈالرس ، گوتم اڈانی کو 496 ملین ڈالرس کا نقصان ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ اودے کوٹک اور سن فارما کے دلیپ سانگھوی کو بھی شیرز کی قدر گرنے کے نتیجہ میں کئی ملین ڈالرس کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ریلائنس کو 53.706 ہزار کروڑ روپئے ٹاٹا کو 41.930 ہزار کروڑ روپئے ، اڈانی کو 27 ہزار کروڑ روپئے ، آدتیہ برلا کو 17.534 ہزار کرور روپئے ، واڈپار کو 3.272 ہزار کروڑ روپئے انڈین بلس کو 391 ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات ہوئے ۔ دوسری جانب کورونا وائرس کا اثر پولٹری صنعت پر بھی پڑا ہے ۔۔