کورونا وائرس کے باعث بازاروں کی حالت انتہائی ابتر

,

   

خریداروں میں کمی ، عوام کا رقم کو خرچ کرنے سے اجتناب ، دعوتیں ، محفلیں و تفریحات ٹھپ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے سبب بازارو ںکی حالت انتہائی ابتر ہونے لگی ہے اور عوام اپنے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہے کہ حالات کب معمول پر آئیں گے اور کب تک یہی صورتحال برقرار رہے گی۔شہر حیدرآباد میں تعطیل اور چھٹی کا ذہن اب بھی لوگوں کا نہیں بن رہا ہے اور نہ ہی دوستوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے بلکہ ہر کوئی حفظ ماتقدم کی بنیاد پر گھر میں رہنے کو ترجیح دے رہا ہے اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے سے احتیاط کیا جا رہا ہے۔ سینما ہالس اور تھیٹرس کو نہ کھولنے کا فیصلہ کرنے کے بعد جو صورتحال ہے اس کے سبب شہری اب بھی تفریح کے مقصد سے گھروں سے نکلنے سے احتیاط کر رہے ہیں اور صرف ضروریات کے تحت ہی گھر کے باہر نکلنے کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ریستوراں اور دیگر مقامات کو کھولے جانے کے باوجود شہر میں سرگرمیاں بحال نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی شہریوں کی جانب سے ریستوراں میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ کی محافل سجائی جا رہی ہیں جو کہ ریستوراں کے کاروباریوں کے لئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔ افراد خاندان کے ساتھ تفریح اور دوستوں کے ساتھ وقت گذاری بھی گذشتہ 5 ماہ سے قصۂ پارینہ بنا ہوا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی یا مرکزی حکومت کی جانب سے بھی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جارہاہے کہ حالات کب معمول پر آئیں گے اسی لئے شہریوں کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کیلئے اپنے طور پر فیصلہ کیا جا رہاہے جو کہ مجموعی اعتبار سے ان کے حق میں شائد فائدہ مند ثابت ہو لیکن ان حالات میں تجارتی برادری جو کہ عوامی اخراجات کے سبب کاروبار جاری رکھنے کے موقف میں ہوتی تھی وہ شدید نقصان کا شکار بنی ہوئی ہے۔ جو لوگ اتوار یا تعطیل کے موقع پر اپنے افراد خاندان کے ساتھ گھومنے کیلئے نکلا کرتے تھے وہ گذشتہ 5 ماہ کے دوران کسی بھی مقام پر تفریح کے مقصد سے نہیں گئے ہیں اور نہ ہی حالات کے معمول پر آنے تک ان کا کوئی منصوبہ ہے کہ وہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ تفریح کیلئے نکلیں یا پھر باہر کھانے کا منصوبہ تیار کریں ۔ دفاتر میں کام کرنے والے بالخصوص جن لوگوں کو گھر سے کام کرنے کی اجازت حاصل ہے وہ تو بلکل بھی گھروں سے نکلنے سے اجتناب کر رہے ہیں کیونکہ گھر سے دفتری مصروفیات کے علاوہ دیگر امور کی انجام دہی میں ہی ان کا وقت نکل رہا ہے اور جب وہ خود گھر سے کام کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں ان کی جانب سے تفریح کا منصوبہ تیار کرنے کا سوال ہی نہیں ہوتا ۔ بتایاجاتا ہے کہ 20 فیصد سے بھی کم افراد ایسے ہیں جو اپنے افراد خاندان کے ساتھ گھروں سے نکل رہے ہیں۔