حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کی ٹیکہ اندازی زور و شور سے جاری ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اب بھی کوویکسن کی پہلی خوراک حاصل کرنے والے اب بھی اپنی دوسری خوراک کے منتظر ہیں جبکہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بیشتر عوامی مراکز صحت پر صرف کووی شیلڈ کاہی ٹیکہ دیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ کوویکسن ٹیکوں کا اسٹاک نہ ہونے کے سبب کوویکسن کی دوسری خوراک کے سلسلہ میں واضح احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں کوویکسن کے ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کہاجا رہاہے کہ بھارت بائیو ٹیک کی جانب سے تیار کردہ کوویکسن کے ٹیکوں کی ریاست تلنگانہ میں قلت کے سبب دوسری خوراک کے منتظر افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر پہلی خوراک کے دوران کوویکسن کی موجودگی کے سبب کافی تعداد میں شہریوں نے کوویکسن کے ٹیکہ حاصل کیا تھا اور اب ان کودوسری خوراک دی جانی ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ریاست میں کوویکسن کی دوسری خوراک کے لئے خصوصی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور جس انداز میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس کے مطابق ریاست تلنگانہ میں جلد ہی دوسری خوراک کے لئے کو ویکسن کے مراکز کا اعلان کیا جائے گا۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے یہ واضح اعلان کیا جاچکا ہے کہ پہلی خوراک کے طور پر جو ٹیکہ لیا گیا ہے وہی دوسری خوراک کے طور پر لیا جانا چاہئے لیکن فی الحال دونوں شہروں میں کوویکسن کی عدم موجودگی کے سبب شہریوں کی جانب سے مختلف مقامات پر کوویکسن کے لئے استفسار کیا جا رہاہے ۔ M
تلنگانہ کے بیشتر اضلاع اور شہروں میں جو ٹیکہ دیا جا رہاہے اس کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ مرکزی کی جانب سے جو ٹیکے فراہم کئے جا رہے ہیں وہی دیئے جا رہے ہیں اور اب کوویکسن کی دوسری خوراک کی طلب میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کو نظر میں رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز کو اس سلسلہ میں مطلع کیا جائے گا اور کوویکسن کی اضافی خوراک کے حصول کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتہ سے کوویکسن کے ٹیکوں کی بہ آسانی دستیابی کے اقدامات کئے جا نے لگے ہیں اور اس سلسلہ میں تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔M