اسکولوں کی کشادگی کے بعد انتظامیہ کیلئے مشکل حالات کا اندیشہ
حکومت کی جانب سے سرکاری و اقامتی اسکولوں کیلئے آن لائن تعلیم کا جائزہ
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) کورونا وائرس نے ہندستان میں سب سے مقدس تصور کئے جانے والے پیشہ کو عملی طور پر ختم کردیا ہے۔ کورونا وائرس سے دنیا کے مختلف شعبہ حیات پر کئی طرح کے منفی اثرات نمایاں ہوئے ہیں لیکن ہندستان میں سب سے مقدس تصور کئے جانے والے پیشہ درس و تدریس پر سنگین اثرات مرتب کئے ہیں اور لاک ڈاؤن کے بعد اساتذہ کو نئے طرز معاشرت کے مطابق زندگی گذارنے کے علاوہ سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کہ کیونکہ کورونا وائرس نے ہندستانی نظام تعلیم میں آن لائن ایجوکیشن کو روشناس کروایا ہے جو کہ ملک کے ترقی یافتہ شہروں میں بعض مقامات پر اب تک موجود تھی لیکن اب ہر تعلیمی ادارہ کی ضرورت بن جائے گی اور آن لائن تعلیم کے بغیر کوئی راہ موجود نہیںہے۔لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد جب کبھی اسکولوں کی کشادگی عمل میں لائی جائے گی تو ایسی صورت میں اسکولوں کے لئے جو قواعد ہوں گے ان قواعد میں سماجی فاصلہ کو لازمی قرار دیا جائے گا اور ایسی صورت میں موجودہ 40 نشستی نظام 20نشستی ہوجائے گا اور ایک کلاس میں صرف 20 طلبہ کو بٹھانے کی اجازت حاصل رہے گیاور ایسی صورت میں جہاں 40طلبہ کے لئے ایک ٹیچر کافی ہوا کرتا تھا وہاں اب دو اساتذہ کی ضرورت پڑے گی
اور اسکول انتظامیہ ان حالات میں دو اساتذہ کی تنخواہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہوگاکیونکہ حکومت کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ فیس میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ٹیوشن فیس کے علاوہ کوئی اور فیس وصول کی جائے ۔اسکولو ںمیں سماجی فاصلہ کے فیصلہ کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ والدین مطمئن ہوتے ہوئے اپنے بچوں کو اسکول روانہ کریں گے بلکہ ان کے دلوں میں بھی خوف باقی رہے گا ہی اسی لئے ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ واحد راستہ آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل کلاس روم کا رہ جاتا ہے اور ہندستانی نظام تدریس میں آن لائن درس و تدریس کے عمل سے واقف اساتذہ کی تعداد 2.8 فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور جو اساتذہ آن لائن درس و تدریس سے واقف ہیں وہ ہندستانی بجٹ اسکولوں میں خدمات انجام نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا مشاہرہ 75 ہزار سے ایک لاکھ روپئے تک ہوتا ہے اور بجٹ اسکول یہ ادا کرنے کے متحمل نہیں ہوں گے ایسی صورت میں روایتی اساتذہ بلکہ بجٹ اسکولوں کا بھی مستقبل غیر یقینی حالات کا شکار بن جائے گا ۔حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو بھی حکومت کی جانب سے آن لائن تعلیم کی فراہمی کی تربیت کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری اور اقامتی اسکولوں کے طلبہ کیلئے بھی آن لائن تعلیم و تربیت کے انتظامات کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے جب سرکاری اسکولوں اور اقامتی اسکولوں کے طلبہ کے لئے آن لائن تعلیم و تربیت کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہاہے تو ایسی صورت یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے ریاست میں نئے تعلیمی نظام کو متعارف کروانے جارہی ہے۔