39 دواخانوں کی رپورٹس کا جائزہ ، آئی سی ایم آر کی تحقیق میں انکشاف
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے شکار مریضوں کی زندگی بچانے کے لئے پلازمہ تھراپی کارکرد ثابت نہیں ہورہی ہے۔آئی سی ایم آر کی جانب سے کی گئی تحقیق کے بعد اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ پلازمہ تھراپی جان بچانے میں معاون ثابت نہیں ہورہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک بھر میں 39 ایسے دواخانوں میں جہاں پلازمہ تھراپی کے استعمال کے ذریعہ کورونا وائرس کے شکارمریضوں کی صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی ان کا جائزہ لینے اور ان کے پاس اعداد و شمار کے علاوہ مریضوں کی صحت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد ادارہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعہ کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے کے جو ادعا جات ہیں وہ بے بنیاد ہیں بلکہ پلازمہ تھراپی ان لوگوں کے لئے کارگر ثابت ہورہی ہے جن کی صحت مستحکم ہے۔ کورونا وائر س کے علاج کے سلسلہ میں کی جانے وا لی کئی تحقیق کے دوران پلازمہ تھراپی کو کافی شہرت حاصل ہوئی تھی اور پلازمہ تھراپی کے ذریعہ کورونا وائرس کے مریضوں کی صحت میں بہتری کے دعوے کئے جا رہے تھے اور کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کو پلازمہ کا عطیہ دینے کے لئے راغب کروانے کے اقدامات کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے پلازمہ بینک کے قیام کے علاوہ پلازمہ کے حصول کے لئے تفصیلات حاصل کی جا رہی تھیںآئی سی ایم آر کے محققین نے بتایا کہ ادارہ کی جانب سے 39 ایسے دواخانوں سے رپورٹس اور مریضوں کی تفصیلات حاصل کی گئی جو کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعہ علاج کو ممکن بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں ۔ ان دواخانوں سے وصول ہونے والی رپورٹس اور دیگر تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعہ زندگی بچانے کا نظریہ غلط ثابت ہوچکا ہے بلکہ پلازمہ کے ذریعہ صحت میں استحکام پیدا ہونے کی حد تک بات درست ہے کیونکہ قوت مدافعت میں استحکام کے ذریعہ کورونا وائرس کے جراثیم سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور پلازمہ چڑھانے سے صرف قوت مدافعت میں ہی استحکام پیدا ہورہا ہے جو کہ کورونا وائرس کے شکار مریضوں کی قوت مدافعت کو مستحکم کرتے ہوئے ان میں کورونا وائرس کے جراثیم سے مقابلہ کی اہلیت پیدا کررہا ہے۔