ملک میں طویل مدتی لاک ڈاؤن ہی انسداد وائرس کا واحد حل، ڈاکٹرس کی حمایت
حیدرآباد: ملک کے عوام ایک اور طویل مدتی لاک ڈاؤن کے لئے تیار ہوجائیں کیونکہ مختلف ذرائع سے شہریوں کی ذہن سازی کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اب لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ ہندستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کیلئے طویل مدتی ’’ لاک ڈاؤن‘‘ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔ لاک ڈاؤن کے ذریعہ ہی حکومت ملک میں تیزی سے پھیل رہے کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کرسکتی ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے اور مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لئے وائرس کی چین کو توڑنا ضروری ہے اور لاک ڈاؤن کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔برطانیہ میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کوروکنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے لیکن کسی بھی اقدام کے کارکرد ثابت نہ ہونے کے بعد برطانیہ میں تین ماہ طویل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں اب برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ڈاکٹر شیام اگروال سر گنگا رام ہاسپٹل نئی دہلی نے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہاکہ ہندستان بھر میں جو تعداد 2لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اگر اس کی رفتار کا مشاہدہ کیا جائے تو آئندہ 4تا5 یوم میں اندرون 24 گھنٹے دوگنی تعداد میں مریضوں کی نشاندہی کی جانے لگے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے طویل مدتی لاک ڈاؤن سے تجربہ اور ان کی کامیابی کے امور کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت ہند کو بھی فوری طور پر لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطہ کو ختم کرتے ہوئے مرض کو مزید وبائی ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے۔اس کے علاوہ شہریو ںمیں سنجیدہ طبقہ کی جانب سے بھی اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سال گذشتہ مریضوں کی کم تعداد کے باوجود لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا لیکن اب لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے جو کہ ناقابل فہم ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں رات کا کرفیو ہفتہ واری مکمل لاک ڈاؤن کے علاوہ دیگر تحدیدات عائد کئے گئے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں کی چین کو توڑا جاسکے لیکن اس میں کوئی نمایاں کامیابی نہ ہونے کے سبب ریاستی حکومتوں میں بھی تشویش کی لہر پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی سطح پر حکومت کی جانب سے اگر سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ طبی اداروں اور ڈاکٹرس کے علاوہ ماہرین کاکہناہے کہ اگر معاشی بدحالی کی دہائی دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیاجاتا ہے تو ملک بھر میں سنگین حالات پیدا ہوجائیں گے اور کسی بھی شہر میں مریضوں کی تعداد پر قابو پانا مشکل ہوتا چلا جائے گا اسی لئے طبی عملہ اور ڈاکٹرس کی جانب سے لاک ڈاؤن کی حمایت کی جانے لگی ہے۔