حیدرآباد۔کورونا وائرس کے متاثرہ مریض ذہنی الجھن اور مایوسی کا شکار ہونے لگے ہیں انہیں مایوسی اور ذہنی تناؤ سے بچانے کیلئے فوری طور پر ان کی کونسلنگ کی ضرورت ہے اور حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ کورونا وائرس میں مبتلاء مریضوں کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ اس بیماری سے فوت ہوجائیں گے جبکہ کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کے فیصد میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا جا رہاہے بلکہ صحت مند ہونے والوں کی تعداد کو حوصلہ افزاء قرار دیا جانے لگا ہے ۔شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں کورونا وائرس کے بڑھتے مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے شہریوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور ان میں علامات ظاہر ہونے پر وہ معائنہ کروانے سے خوفزدہ ہو رہے ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے۔کورونا وائرس کا شکار مریضوں کو ادویات کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں مایوس ہونے سے بچانے کیلئے حکمت عملی کی تیاری اور کونسلنگ کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے کیونکہ کورونا وائرس کے خوف سے خودکشی کی کوشش کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں
اسی لئے سرکاری سطح پر فوری کونسلنگ کے مراکز کے قیام کے ذریعہ ان مریضوں کی ذہن سازی کے علاوہ انہیں ذہنی تناؤ کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔شہر حیدرآباد میں روزانہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے باوجود شہریوں کی جانب سے احتیاطی اقدامات نہ کئے جانے کے مسئلہ کو دیکھتے ہوئے اس مسئلہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس میں لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہونے لگے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں اور ان کے افراد خاندان سے قربت اختیار نہ کرنا احتیاط ہے لیکن ان سے رابطہ منقطع کرنا انہیں اذیت میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے اسی لئے رشتہ داروں ‘ دوستوں اور عزیزوں کے علاوہ پڑوسیوں کو بھی چاہئے کہ وہ کورونا وائرس کا شکار مریضوں اور ان کے افراد خاندان کو تنہاء کرنے کے بجائے ان سے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی مدد کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اس مشکل دور میں آپ کی جانب سے کی جانے والی مدد اور دیئے جانے والے اخلاقی سہارے کو ہمیشہ یاد رکھیں۔فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے کورونا وائرس کے شکار مریض اور اس کے رشتہ داروں کی کونسلنگ اور انہیں ہمت کے ساتھ صورتحال کا مقابلہ کرنے کی تاکید کے علاوہ مشکل صورتحال میں کس طرح سے خیالات پر قابو پایا جائے یہ بتانا بھی کافی ہے۔