سڑکوں پر ہجوم نکل آنے کی اصل وجہ مراٹھی چیانل کی جھوٹی افواہ ، منافرت کو بند کرنے نامور صحافی راج دیپ سردیسائی کا ردعمل
حیدرآباد15اپریل(سیاست نیوز) ملک کے نامور صحافی راج دیپ سردیسائی نے کورونا وائرس کے مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں گذشتہ یوم جو بھیڑ سڑکوں پر نکل آئی اور دوسری ریاستوں کے مزدور اپنے مقام پر واپس جانے کیلئے باندرہ اسٹیشن پہنچے وہ کوئی منظم سازش یا احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک سرکردہ مراٹھی چیانل کی جانب سے نشر کی گئی خبر میں یہ دعوی کیا گیا کہ کچھ ہی دیر میں ٹرینوں کا آمد و رفت شروع ہونے جا رہی ہے اور اسی طرح ایک اور ادارہ کی جانب سے جاری کردہ خبر میں دعوی کیا گیا کہ مسافرین کو ٹرین سے سفر کیلئے 4گھنٹے قبل اسٹیشن پہنچنا ہوگا اسی لئے بیرون ریاست کے یہ مزدور اچانک نکل پڑے ۔مسٹر راج دیپ سردیسائی نے مذکورہ چیانل کا نام لئے بغیر ٹوئیٹر پر لکھا کہ جو مسئلہ کو فرقہ وارنہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہی ہیں جو افواہیں پھیلا رہے ہیں۔راج دیپ سردیسائی نے کہا کہ خدا کے لئے اس عالمی وبائی مرض کے دور میں فرقہ وارانہ منافرت اور افواہوں کو فروغ نہ دیں ۔انہوں نے کم از کم اس وقت اس طرح کی باتوں سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جاری ان حالات کا مثبت فکر کے ساتھ مقابلہ کی ضرورت ہے۔ ممبئی میں پیش آئے ہجوم کے ریلوے اسٹیشن پہنچنے کے واقعہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ لوگ اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے بے چین ہیں
اور اس وقت انہیں گھر اور گاؤں پہنچنے سے زیادہ اہم کوئی شئے نظر نہیں آرہی ہے۔ممبئی میں بیرون ریاست مزدور طبقہ کے سڑکوں پر نکل آنے کی خبر کو بھی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے اس قدر فرقہ وارانہ اندا زمیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی کہ راج دیپ سردیسائی کو بولنا پڑا کہ ان حالات میں کم از کم فرقہ واریت اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں۔ممبئی میں مزدور مراٹھی ٹیلی ویژن پر خبر دیکھ کر اسٹیشن کے لئے دوڑ پڑے اور جھوٹی خبریں چلانے والے ادارے اور بعض دیگر فرقہ وارانہ منافرت پرمبنی خبریں چلانے کے عادی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے جو سرخیاں نشر کی گئی ان میں یہ کہا گیا کہ ممبئی باندرہ مسجد کے باہر ہجوم جمع ہوچکا ہے جبکہ ایک چیانل نے ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہونے کی خبر چلائی اور دوسرے نے ان لوگوں کو مسجد کے سامنے پیش کردیا جن میں اکثریت کا مسجد سے تعلق نہیں بلکہ وہ اسٹیشن کے سامنے جمع تھے۔اس طرح کی خبروں کے ذریعہ ذرائع ابلاغ ادارو ںکی جانب سے شہریوں میں منافرت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے افواہوں کا سہارا لیا جا رہاہے۔بے بنیاد خبروں اور کشیدہ حالات کے دوران چلائی جانے والی ان خبروں پر سنجیدہ اور انسانیت کی فروغ کیلئے کام کرنے والے صحافی رنجیدہ ہونے لگے ہیں کیونکہ ان صحافیوں کی وجہ سے مقدس پیشۂ صحافت کی بدنامی ہونے لگی ہے اور لوگوں کا اعتبار ختم ہونے لگا ہے اسی لئے ان صحافیوں کی سرزنش کی جار ہی ہے جو ن حرکات میں ملوث ہیں۔