کورونا وائرس ہوا کے ذریعہ دوسروں تک پھیل سکتا ہے

,

   

دو تحقیقی اداروں کا ریسرچ، عوام کو ماسک اور سماجی فاصلہ کا مشورہ
حیدرآباد: کورونا وائرس سے متعلق ایک نئی تحقیق نے عوام کو مزید چوکسی اور کورونا قواعد پر عمل آوری کیلئے مجبور کردیا ہے۔ حیدرآباد کے تحقیقی ادارے سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بیالوجی نے چندی گڑھ کے انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بیالوجی ٹکنالوجی کے اشتراک سے دونوں شہروں میں ہوا میں وائرس کی موجودگی پر ریسرچ کیا ہے جس میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ کورونا وائرس کے ذرات ہوا میں موجود رہتے ہیں اور وہ کسی کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ ریسرچ میں دونوں شہروں کے تین دواخانوں میں جانچ کی گئی جس کے تحت یہ پتہ چلانے کی کوشش کی گئی کہ کورونا وارڈس اور غیر کورونا وارڈس کی فضاء میں کیا وائرس موجود ہے۔ تحقیق میں اس بات کا پتہ چلا کہ کورونا وارڈ کی فضاء میں وائرس موجود تھا جس سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وائرس ہوا میں برقرار رہ سکتا ہے جو کسی کے لئے بھی خطرناک ہے۔ سی سی ایم بی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر راکیش مشرا نے کہا کہ ریسرچ کے نتیجہ میں کووڈ قواعد اور گائیڈ لائینس پر سختی سے عمل آوری کا عوام کو پابند ہونا پڑے گا۔ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ وائرس نان کووڈ وارڈس کی فضاء میں نہیں پایا گیا۔ وارڈ میں جس قدر زیادہ کورونا کے مریض ہوں گے ، اتنے زیادہ وائرس کے ذرات فضاء میں موجود ہوسکتے ہیں۔ کسی کمرہ میں اگر کورونا کا مریض زائد وقت تک قیام کرے تو اس کی فضاء میں دو گھنٹے سے زائد تک وائرس موجود رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مریض کے دو میٹر فاصلہ تک وائرس کی موجو دگی کا انکشاف ہوا ہے ۔ غیر علامتی کورونا کے مریضوں سے وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہے۔ ڈاکٹر سنجیو کھوسلہ نے کہا کہ کورونا ویکسین کے دستیاب ہونے تک عوام کو وائرس سے بچنے کیلئے ماسک کا استعمال بہترین احتیاطی تدبیر ثابت ہوگی ۔ انہوں نے عوام کو کورونا قواعد بالخصوص ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کا مشورہ دیا۔