ایک ہفتہ کے دوران 328 نئے کیسس، 18 اموات
حیدرآباد۔27مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 328 نئے مریضوں کی توثیق اور 18 اموات نے عہدیداروں کی نیندیں حرام کردی ہیں لیکن عہدیدارو ںکو اس بات کی ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی اس بے چینی کو ظاہر نہ کریں کیونکہ موجودہ حالات میں ریاستی حکومت کے پاس عوام کو خوفزدہ ہونے سے بچانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں 2مارچ سے 8مئی کے دوران 1133 کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی تھی اور ان میں 626 مریضوں کا تعلق شہر حیدرآباد سے تھا اور 8مئی سے 25مئی کے درمیان شہر حیدرآباد میں یعنی جی ایچ ایم سی حدود میں 597 کورونا متاثرین کی نشاندہی عمل میں آئی۔جملہ مریضوں میں 787 مریضوں کا تعلق ریاست کے دیگر اضلاع سے رہااور بیرونی مزدوروں کی واپسی کے عمل کے آغاز کے بعد سے اب تک 158مائیگرینٹس کی کورونا وائرس کے مریضوں کی حیثیت سے شناخت کی جاچکی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں 2مارچ سے 2مئی کے درمیان کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی جملہ تعداد 29رہی جبکہ 21تا25مئی کے دوران 16 اموات واقع ہوچکی ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں 5مئی کو کورونا وائرس کے کنٹینمنٹ زون کی تعداد 56ہوگئی تھی لیکن اب یہ تعداد 200 سے تجاوز کرچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس میں روزانہ کے اساس پر اضافہ ہونے لگا ہے جس پر قابو پانا محکمہ صحت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے لئے بھی مشکل ترین امر ہوتا جا رہاہے۔جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے آپسی گفتگو کے دوران معاشرتی پھیلاؤ کی توثیق کرنی شروع کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اب تک ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد کے ترکاری کے مارکٹ اور شراب کی دکانوں کے ذریعہ کورونا وائرس سماجی پھیلاؤ کا سبب بننے لگا ہے۔