کورونا وباء میں شدت اور اس سے نمٹنے کیلئے صحافیوں کا تعاون ناگزیر

   

Ferty9 Clinic

نظام آباد کلکٹریٹ سے منتخب صحافیوں کے ساتھ ضلع کلکٹرکی سیل فون کانفرنس ، احتیاطی تدابیر کا مشورہ

نظام آباد : ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے ضلع میں کرونا وباء میں شدت اور کرونا سے نمٹنے کیلئے صحافیوں کا تعاون ناگزیر قرار دیا۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی آج کلکٹریٹ سے منتخب صحافیوں سے سل کانفرنس کیا بشمول سیاست ۔انہوں نے تفصیلی طور پر بات چیت کی اور کہا کہ ضلع میں کرونا کی وباء شدت اختیار کرچکی ہے اور عوام میں شعور بیداری اور احتیاطی تدابیر کے اختیار کے ذریعہ کرونا پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد کی طرح نظام آباد کوویڈ ہاسپٹل میں مریضوں کے علاج کیلئے بہتر سے بہتر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد سرکاری دواخانہ کو کوویڈ ہاسپٹل کی حیثیت سے قرار دینے کے بعد 200 بستروں پر مشتمل اقدامات کئے گئے تھے لیکن اب اس میں اضافہ کرتے ہوئے 250 ضرورت پڑنے پر 450 بستروں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ابتداء میں صرف 25 وینٹی لیٹرس تھے لیکن اب 70 وینٹی لیٹرس کی سہولت دستیاب ہے ۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او اور آئی سی ایم آر کے قواعد پر عمل آوری کرتے ہوئے 3 زمروں میں مریضوں کو تقسیم کیا گیا ہے ابتدائی مرحلہ میں ہوم آئسولیشن اور دوسرے مرحلہ میں آئسولیٹ کے علاوہ تیسرے مرحلہ میں بیماری شدت اختیار کرنے کی صورت میں انہیں دواخانہ منتقل کیا جائیگا ۔ ڈاکٹر ارون دھتی کی قیادت میں مریضوں کا معائنہ کیا جارہا ہے ۔ بیشتر مرض شدت اختیار کرنے کے بعد دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں اور ان کا آکسیجن ساچولیشن 30 فیصد ہونے کے بعد دواخانہ آرہے ہیں جس کی وجہ سے اموات پیش آرہی ہے لہذا ابتدائی مرحلہ میں مقامی پرائمری ہیلت سنٹر ، اے این ایم سے رجوع ہوتے ہوئے اپنی بیماری کا معائنہ کرائیں تاکہ متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکے ۔جن افراد کو پازیٹیو ہونے کے باوجود بھی علامتیں ظاہر نہیں ہوتی انہیں 14 دن ہوم آئسولیٹ کرتے ہوئے جملہ 17 دن تک باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری ہے ۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے کہا کہ کوویڈ کی وباء کے بعد ضلع میں مختلف مقامات سے 25تا 30 ہزار افراد آئے ہیں اور بیشتر افراد مختلف مقامات پر روزگارسے جڑے ہوئے تھے یہ تمام افراد روزگار سے محروم ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ این آر جی ایس اسکیم کے تحت ان مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے اور اب تک 11 جاب کارڈ بھی فراہم کئے گئے ہیں اور خواتین کو 5 ہزار روپئے تک کے قرضہ جات بھی فراہم کئے جارہے ہیں ۔ سرکاری دواخانہ میں کوویڈ مریضوں کے علاج کیلئے لاپرواہی برتنے اور آکسیجن کی سہولتیں دستیاب نہ ہونے کی شکایت کو بھی غلط قرار دیا اور تینوں مرحلہ میں ڈاکٹرس 24 گھنٹے کام کررہے ہیں اور آٹو میں نعش کو منتقل کرنے کے واقعہ پر بھی ضلع انتظامیہ کی جانب سے سخت نوٹ لیتے ہوئے اس خصوص میں کارروائی کی جائے گی ۔ کوویڈ کے مریضوں کے علاج کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھا جارہا ہے ۔ ضلع کے سرحدوں کو بند کرنے کے بارے میں ریاست گیر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے کہا کہ یہ معاملہ مرکزی حکومت کے اختیار میں ہے عوام میں شعور بیداری اور عوام میں موجودہ تجسس کو دور کرنے کیلئے ماہر نفیسات کے ذریعہ بھی کونسلنگ کرنے کیلئے غور کیا جارہا ہے ۔ شہر میں عوام بے خوف ہوکر بغیر ماسک گھومنے کے خلاف جرمانہ بھی عائد کئے گئے تھے اور کارپوریشن کی جانب سے اور بھی سخت ترین اقدامات کرنے کیلئے ہدایتیں دی جارہی ہے ۔ پریس کلب کے نمائندوں کو کرونا ٹسٹ کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ضرورت کے مطابق صحافیوں کے معائنہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کرتے ہوئے کرونا کے خاتمہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔