کورونا وباء میں مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کی مثالیں

   

ہندووں کی آخری رسومات مسلمان ادا کر رہے ہیں ‘ ہندو نوجوان مسلمانوں کو ادویات فراہم کر رہے ہیں
حیدرآباد۔18کورونا وباء کے دوران شہریوں کی ایک دوسرے کی مدد کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ مذہب سے بالاتر مدد کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کی جا رہی ہے اور انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی جانب سے نہ صرف غذاء و دوا کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے بلکہ آکسیجن‘ آلات کے ساتھ آخری رسومات تک کی انجام دہی عمل میں لائی جانے لگی ہے جو کہ انسانیت کی خدمت تصور کرتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔ تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں اس طرح کی کئی مثالیں منظر عام پر آنے لگی ہیں کہ نوجوانوں کے گروپس سے مریضوں اور انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔میدک کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں متوفی خاندانو ںکی جانب سے میتوں کو حاصل نہ کئے جانے اور آخری رسومات میں پس وپیش پرمسلم نوجوانوں کے آگے آنے کی مثالیں سامنے آئی ہیں تو شہر میں کورونا کا شکار مسلم مریضوں کو گھر تک غذاء اور دوا کی فراہمی کیلئے غیر مسلم نوجوانوں کی کئی مثالیں ہیں۔ مساجد جہاں قرنطینہ مرکز میں تبدیل کی جا رہی ہیں تووہیں آکسیجن کی فراہمی کیلئے مسلم نوجوانوں کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے۔ کورونا وباء کے دوران انسانیت کی کئی مثالیں سامنے آنے لگی ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ سیاستداں جو نفرتوں کے ذریعہ اپنی دکان چلاتے ہیں وہ خوفزدہ ہونے لگے ہیں کیونکہ ان کی نفرت ایک وباء نے دور کردی ہے اور ہر طبقہ کے نوجوانوں نے اپنے کردار اور تعلیمات کو عمل کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اضلاع کے علاوہ شہر میں بھی کئی نوجوانوں کی جانب سے انسانیت کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے اور بعض دینی مدارس کو حاصل چندہ کو وقت اور حالات کی ضرورت کو محسوس کرکے ادویات اور آکسیجن کی فراہمی پر خرچ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ حالات معمول پر آنے پر درس و تدریس کا کام شروع کیا جائے گا لیکن فی الحال انسان اور انسانیت کی بقاء کیلئے جدوجہد کرنا انتہائی ناگزیر ہے ۔